Thursday, September 13, 2018

تعلیمی نظام --- ہونا کیا چاہئیے ـــ (تیسری قسط) ہمایوں مجاہد تارڑ


ترقی یافتہ دنیا کے تعلیمی نظام پر ایک سرسری سی نگاہ ڈال کر دیکھ لیں۔ اندازہ ہو جائے گا کہ چند ایک فیچرز جنہیں بلاتردّد، اور بِلا قیمت فی الفور اپنایا جا سکتا ہے، وہ کیا ہیں۔ دو روز پہلے میری لینڈ (امریکہ) میں مقیم ایک پاکستانی بہن سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ خلاصہ پیشِ خدمت ہے ـــ اِس اپیل کیساتھ کہ وطنِ عزیز میں جو کوئی بھی ایجوکیشن فیلڈ میں ہے، جہاں بھی ہے، حسبِ مقدور اِن خصوصیات کو کسی طور ایڈجسٹ کرنے اور کرانے کی کوشش کرے۔ اور نہیں تو آس پاس میں موجود ہم پیشہ لوگوں سے ان پر بات کرے۔ بات سے بات بنتی، پھیلتی، رفتہ رفتہ سماج اندر سرایت کرتی ہے۔ احباب سے گذارش ہے یہاں شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کو ٹیگ کر دیں۔ کون جانے، کس گلی محلّے کے کس ادارے میں کچھ بچوں کی زندگیاں قدرے آسان ہو جائیں! 
نرسری اور کِنڈرگارٹن کی سطح پر تو ہمارے یہاں بھی اکثر سکولز میں ایکویٹی بیسڈ پروگرام ہی چلتا ہے۔ تاہم، گریڈ 2 اور اس سے اوپر کے گریڈز میں کتابوں اور کاپیوں سے ٹھنسے بھاری بستوں کی لعنت شروع ہو جاتی ہے۔ گریڈ فور کے بچے کا بیگ ایک نظر دیکھیں، کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ دنیا کے سکولز میں جیسے کینیڈا، انگلینڈ، جاپان، فِن لینڈ، میری لینڈ وغیرہ میں بھاری بستے کا کوئی رواج نہیں۔ خیر، امریکی ریاست میری لینڈ کی بات کرتے ہیں۔ جس بہن سے بات ہوئی، وہ منٹگمری کاؤنٹی میں مقیم ہیں اور خود بھی شعبہِ تعلیم سے وابستہ ہیں۔
سکول کا آغاز صبح 9 بجے ہوتا ہے۔ بچوں کے لئے چیک اِن ٹائم 8:45 ہے۔
بچے ناشتہ سکول میں ہی کیا کرتے ہیں۔ وہاں فنڈز چونکہ زیادہ ہیں، اس لئے ایجوکیشن اور کھانا پینا فری ہے۔
ایک کلاس میں دو یا اس سے زیادہ ٹیچرز بھی بیک وقت موجود ہو سکتے ہیں تا کہ چیلنجنگ بچوں کو توجہ دی جا سکے۔ کم سے کم بھی ایک عدد اسسٹنٹ ٹیچر تو ضرور ہی ہوتا یا ہوتی ہے۔
سبجیکٹ ٹیچر کو ایک عدد نصابی کتاب ضرور مہیا کی جاتی ہے۔ تاہم، اسے مکمّل آزادی ہے کہ کوئی ٹاپک پڑھانے کو وہ جو چاہے ذرائع استعمال کرے۔
چھوٹی کلاسز جیسے گریڈز وَن، ٹو، تھری کی سطح پر بچوں کو اخلاقیات اور ادب آداب سکھانے پر زور ہے۔ نیز، آرٹس، میوزک، لائبریری میں پڑی رنگا رنگ کتابوں پر بات چیت، نمبرز کے بنیادی تصورات پر تھوڑا فوکس، کھیل اور بس۔ سائنس، میتھ، جیو گرافی، اسلامیات، سوشل سٹڈیز وغیرہ کو بھاری بھرکم سبجیکٹس کے بطور پڑھانے، کاپیاں بھرانے، ہوم ورک دینے، امتحان لینے اور ان امتحانات کے لئے رٹے لگوانے کا وہاں بالکل بھی تصور نہیں۔ ان سب مضامین کو ٹچ دیا جاتا ہے، تاہم سکول کی سطح تک ہی، اور ہلکے پھلکے انداز میں۔
بچے کے بیگ میں ایک آدھ سٹوری بُک اور ہوم ورک کے بطور ملی ایک یا دو عدد فوٹو کاپی والی شیٹس پڑی مل جائیں گی۔ باقی سب کچھ سکول میں ہی رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی والدین خود خواہش رکھتے ہوں تو اپنے بچے کے لئے اضافی ہوم ورک طلب کر سکتے ہیں۔
ہر ٹاپِک یا ایکٹیویٹی کے بعد ہر سکِل کی assessment ہوتی ہے، ایک عدد چھوٹے سے کوئز کی صورت، لیکن ماہانہ، سہ ماہی، اور سالانہ امتحانات نہیں دئیے جاتے۔ گریڈ سِکس، سیون، اور 8 تک ایسا ہی ہے۔ نتیجتاً بچے سٹریس فری ماحول میں پڑھتے اور انجوائے کرتے ہیں۔
یہ بہن جس کاؤنٹی میں مقیم ہیں وہاں جنوبی امریکہ سے آئے Spanish بچوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ ایسے بچوں کو انہی کی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے نہ کہ ان پر انگلش میڈیم ٹھونس دیا جائے۔ البتہ انگلش کے لئے ایک عدد کلاس الگ سے دی جاتی ہے۔ یعنی مجموعی طور پر میڈیم آف انسٹرکشن بچوں کی اپنی زبان!
بچوں کو سکول کی صفائی ستھرائی میں خوب اِنوالو کیا جاتا ہے (جو کہ جاپانی نظامِ تعلیم کا بھی نمایاں ایک فیچر ہے)، نیز انہیں استعمال شدہ کاغذ اور پلاسٹک کی بوتلیں رِی سائیکل کرنے پر بھی لگایا جاتا ہے۔
باصلاحیت بچوں کے لئے ایک عدد سپیشل کلاس کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں انہیں زیادہ چیلنجنگ سیچوئیشنز کیساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں تا کہ حسبِ استعداد انہیں زیادہ گرو کرنے کا چانس ملے چونکہ ایسے بچے نارمل slow paced learningسے بور ہو جاتے ہیں۔ یوں، ایسے بچوں کو الگ سے پالش کرنے، اور اُن کی inventive genius کو جِلا دینے کا اہتمام ہر ادارے کو کرنا چاہئیے، نہ کہ سب بچوں کو ایک ہی بینڈ ویگن میں گھسیڑ دیا جائے۔
روایتی طرز تعلیم و تدریس والے ایسے ماحول کی وہاں کوئی گنجائش نہیں کہ ایک کلاس میں سب بچے ایک ہی کتاب کھول کر بیٹھ جائیں اور پھر چپ چاپ استاد صاحب کی بورنگ گفتگو سنتے رہیں۔ بلکہ کوئی چھوٹی موٹی ویڈیو دکھا کر، یا ایک عدد driving question دے کر بچوں کو خود ایکسپلور کرنے کی راہ پر ڈالا جاتا ہے۔ بس نگرانی اور مدد کی جاتی ہے۔ بعض اوقات بچوں کو اپنی findings پیش کرنے کو صرف گروپ ڈسکشن تک محدود رکھا جاتا ہے۔ بصورتِ دیگر انہیں کتابوں، رسائل، اور انٹرنیٹ تک رسائی دی جاتی ہے۔
بچوں کو گروپ ڈسکشن کی غرض سے دئیے گئے ٹاپِکس اس طور منتخب کئے جاتے ہیں کہ بچے agree یا disagree کریں تا کہ اُن کی فکری اور تجزیاتی قوت میں اضافہ ہو۔
والدین کو بچوں کے تعلیمی عمل میں ملوّث ہونے اور رہنے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ وہاں کے والدین بس PTM یعنی Parents Teachers Meeting تک محدود نہیں رکھے جاتے جیسا کہ ہمارے یہاں کے والدین ماہانہ یا سہ ماہی امتحان کے بعد رزلٹ لینے آجاتے ہیں، وہ بھی چند منٹوں کے لئے، بلکہ وہاں PTA یعنی Parents Teachers Association کا رواج ہے۔ والدین بچوں کی لرننگ میں رضاکارانہ مدد کیا کرتے ہیں۔ کوئی کیمپ لگا ہو یا کوئی کلب ایکٹویٹی برپا تو وہ باری باری ڈیوٹی دیا کرتے ہیں۔ یا فنڈ ریزنگ پروگرام میں، اور پراجیکٹس میں جو parent جس حد تک بھی اثر انداز ہو سکے رضا کارانہ اپنا تعاون پیش کیا کرتا ہے۔ گویا ایک کمیونٹی بن کر رہنے کا چلن۔ ایک دوسرے کی ضرورتوں سے آگاہ رہنے، مدد کرنے اور یوں ایکدوسرے کی خوبیوں اور مہارتوں سے مستفیض ہونے والا ماحول۔
یہی وجہ ہے کہ شام کو اکیڈمی اور ٹیوشن کا وہاں کوئی سکوپ نہیں۔ جن بچوں کو کسی سبجیکٹ میں ایکسٹرا کوچنگ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بہرصورت سکول کے اندر ہی پوری کر دی جاتی ہے۔
بچے بہ خوشی سکول جاتے اور خوش باش واپس آیا کرتے ہیں۔
لگتا ہے، میری لینڈ میں تعلیمی ماحول بہت عمدہ ہے۔ امریکہ میں بعض مقامات پر پبلک سکول ایجوکیشن اچھی نہیں ہے۔ اسی طرح، اوپری سطح پر بھی سٹیڈرڈائزڈ ٹیسٹوں نے ستیاناس کر رکھا ہے بچوں کی تعلیمی زندگیوں کا۔ ڈراپ آؤٹ بچوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں بیشتر مقامات پر تعلیم بچوں کے لئے ایک بے حد ناخوشگوار تجربہ ہے۔ اسی لئے میں اسے ایجوکیشنل چائلڈ لیبر کہا کرتا ہوں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تحریر: ہمایوں مجاہد تارڑ

تعلیمی نظام ــــ ہونا کیا چاہئیے؟ --- (پارٹ 2) تحریر: ہمایوں مجاہد تارڑ

جبکہ ایک طرف ہمارے یہاں 40 اور 50 اور 70 بچوں سے لبا لب بھرے کمرہِ جماعت میں یہ قوم کُش تعلیمی نظام اِن معصوموں کو اپنے سپائڈر ویب اندر جکڑے بیٹھا ہے، اِن کی تخلیقی صلاحیتوں، اِن کی معصوم خوشیوں، توانائیوں اور جوش و خروش کو قتل کیے دیتا ہے، دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ خود ترقی یافتہ دنیا کے بعض حصّوں میں بھی بیداری کی ایک نئی لہر ہے۔ تھوڑی بہت خود ہمارے یہاں بھی۔
گذشتہ 20 بیس برسوں میں انسانی سماج میں کچھ خاص تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ٹیکنولوجیکل تبدیلیاں، اور سماجی نوعیت کی تبدیلیاں جنہوں نے باسیانِ ارض کا طرزِ زندگی یعنی لائف سٹائل بدل ڈالا ہے۔اوراِنہی تبدیلیوں نے کلاس روم میں برپا معیارِ تعلیم و تدریس پر سوالیہ نشان لگا ڈالے ہیں۔ چنانچہ یہ احساس ایک تسلسل سے بڑھا ہے کہ ہم لوگ بتدریج ایک زیادہ تر پروفیشنل لائف کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں ٹیکنالوجی کا کردار بے پناہ حد تک زیادہ ہو گا کہ ٹیکنالوجی اب ایک زندہ حقیقت ہے۔ کم خرچ بالا نشیں والا نسخہِ کیمیا ہے ـــ یعنی کم وقت زیادہ رفتار کیساتھ flawless نتائج حاصل کر لینا۔ نئی سکِلز تو ساری کی ساری اسی ٹیکنالوجی سے جڑی ہیں۔ جس فرد یا قوم نے بھی آگے بڑھنا ہے، اسے بہرصورت ٹیکنالوجی پر ہی اپنا ہاتھ بٹھانا اور اِس ہنرکاری میں دوسروں سے excel کر کے دکھانا ہو گا، ورنہ میدان کوئی اور مار لے گا۔ علمِ فلکیات (ایسٹرانومی) سے لیکر علمِ حشرات الارض (اینٹومولوجی) تک ہر ہر شعبہِ زندگی میں رفتارِ کار اب اسی سے متعیّن ہوتی ہے۔ نئی دریافتیں اور ایجادات اور اِس عمل میں رفتارِ کار اور سٹائل اور ڈیزائن سب کچھ اسی کا مرہونِ منّت۔ اس لئے تسلیم کہ ہمیں اپنے بچوں کو اِس سے دور نہیں رکھنا، اُلٹا اس کی باریک بینیوں سے آگاہ کرنے کے مثبت استعمال پر لگانا ہے کہ دنیا بتدریج artificial intelligence کی جانب بڑھ رہی ہے۔ Animation اور 3-D Printer کی قوتیں نینو ٹیکنالوجی سے مزید تقویت پا کر معجزے بپا کرنے کو ہیں۔ حیرتوں سے لدے اُس دور کی دستک دروازے پر صاف سنی جا سکتی ہے جس کی آب و تاب عنقریب ہم اپنی آنکھوں برپا ہوتے دیکھیں گے۔ یُوں، یہ بھی تسلیم کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب زندگی کے تقاضے یکسر بدل کر رہ جائیں گے۔ سینکڑوں جابز صفحہِ ہستی سے مٹ جائیں گی۔ جیسے گیس والا ہیٹر آیا تو کوئلے کی بوریاں جانور کی کمر پر ٹکا ٹکا یا اپنی کمر پر لاد لاد مختلف گھروں میں بیچنے والے مزدور کا کام ٹھپ ہو گیا، اسے الیکٹریشن بن جانا پڑا جو گیس والے چولہے ریپئر کر سکتا ہو۔ فریج کے آ جانے سے گھڑے بنانے والی صنعت دم توڑ گئی۔ بالکل اسی طرح نئی مارکیٹ، نئی دنیا کا سلسلہِ روزوشب نئی skills یا مہارتوں کا متقاضی ہو گا۔ جبکہ رواں ساعت دنیا کے متعدّد حصوں میں، بالخصوص پاکستان میں، جو تعلیمی کاروبار گرم ہے، اُس میں مستقبل کی تیاری کی کوئی خاص رمق ہمیں نظرنہیں آ رہی۔
تاہم، جو بات حوصلہ افزا ہے وہ خود اِس بیداری کی لہر کا احساس ہے۔ اور ترقی کے سفر میں احساسِ زیاں کا ہونا ہی اوّلین قدم ہے۔ آگے بڑھتے ہیں۔ میرے ساتھ رہئیے! 
آج جب Future Schooling کی بات چھڑتی ہے تو ہماری فکر اس نکتہ پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ اب سے آگے 40 یا 50 برسوں بعد تعلیمی ادارے کیسے ہوں گے؟ حالانکہ اِس سے کہیں درجہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ گذشتہ ایک صدی میں تعلیم وتدریس نے فاصلہ کس قدر طے کیا، یعنی جب سے اِس نوع کی ماڈرن سکولنگ کا آغاز ہوا ـــــ یعنی 1837 میں جب امریکی ریاست میسا چُوسٹ کے ہوریس مَین نے اس طرز کے پہلے سکول کی بنیاد رکھی جس میں تعلیم کے بنیادی مواد کو منظّم نصاب کے بطور پیشہ ور اساتذہ کے ہاتھوں پڑھایا جانے لگا۔ ہوریس مَین میسا چُوسٹ کا تب سیکریٹری آف ایجوکیشن تھا۔ تخلیقی آدمی تھا۔ اگرچہ تھوڑا آگے چل کر اِس ماڈرن ورژن آف سکول سسٹم پر بھی کچھ مغربی ریفارمرز زوردار انداز میں اثر انداز ہوئے، جیسے پیسٹا لوزی، ہربرٹ اور مشہورو معروف مِس مونٹے سوری جن کے نام کی نسبت سے ایک پورا Montessori System شرق و غرب میں پھیل گیا۔
لیکن واپس مڑ کر دیکھیں تو ایک بات پریشان کئے دیتی ہے۔ اِس تحریر کے ساتھ جو تصویر بلیک اینڈ وائٹ میں ہے، وہ سٹریتھ کلائڈ پرائمری سکول، گلاسگو، یعنی سکاٹ لینڈ کی ہے۔ یہ 1918 کے زمانے کی تصویر ہے۔ کمرے میں کشادہ کھڑکیاں اور فینسی لائٹس تک نظر آرہی ہیں۔ سافٹ بورڈ اور الیکٹرانک بورڈ بعد کی پیداوار ہیں۔ یہ اُس زمانے کا جدید نظامِ تعلیم تھا جسے اب ہم ایک روایتی طرزِ تعلیم کہا کرتے ہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں بیشتر گورنمنٹ سکولز میں، حتٰی کہ ہزاروں پرائیویٹ اداروں میں بھی ـــ آج بھی ـــ بس یہی ماحول ہے۔ میں اور آپ، ہمارے والدین، اور ان کے والدین انہی اداروں میں پڑھ لکھ کر جوان ہوئے۔ پچھلے کچھ برسوں میں اضافہ اگر کچھ ہوا تو بس مارکر والے وائٹ بورڈ کا۔ الیکٹرونک بورڈ بعض بِگ برانڈ اداروں نے بھی نہیں لگا رکھے ــــ جیسا کہ آپ رنگین تصویر میں دیکھتے ہیں جس میں ٹیچر نے بورڈ پر پاور پوائنٹ پریذنٹیشن کھول رکھی ہے۔
لیکن یہاں بحث ٹیکنالوجی کی integration کی نہیں ہے۔ اِن سب سکولوں میں futuristic feel اب بدرجہ اتم موجود ہے ــــ کہ آئی پیڈ، کمپیوٹ، سافٹ بورڈ اور الیکٹرونک بورڈ وغیرہ کا استعمال کیا جائے۔ جو شے اِن تمام برسوں میں بدل کر نہیں دے رہی وہ کچھ اور ہے۔ یہ آرٹیکل جس مقصد کے لئے لکھا گیا ، وہ نکتہ ہی کچھ اور ہے۔ وہ وِژن کیا ہے؟
وہ یہ ہے کہ اِس سارے سازوسامان اور تعلیم و تدریس کے عمل کے بیچ، اِس عمل کی مرکزی شخصیت یعنی خود بچّے کو ہم کس انداز اور زاوئیے سے دیکھتے ہیں۔
اِس اعتبار سے پچھلی ڈیڑھ صدی میں جو phenomenon مستقلاً چھایا رہا ہے اور آج کے جدید تعلیمی ماحول پر بھی غالب اور برابر مسلّط نظر آتا ہے وہ بچّے کو جبراً کچھ طے شدہ مواد پڑھائے جانے کا ہے۔ یعنی اُس پر ٹھونسے جانے والے انداز میں۔ اِس پر مستزاد، مواد کا اپنی مادری زبان میں نہ ہونے کا عذاب ہے ـــ اگرچہ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا، اور خود میرا اپنا ایک آرٹیکل بھی موجود ہے۔
جب ہم جدید نظامِ تعلیم اور مستقبل کی بات کرتے ہیں تو بدقسمتی سے ہم ٹیکنالوجی، گیجٹس، ایپس، سسٹمز، جابز، کیریئر کی بات کرنے لگ جاتے ہیں۔ بلاشبہہ اِن کی اہمیت اپنی جگہ ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ تاہم، مستقبل کے حوالے سے تعلیمی عمل میں اصلاحات کو ٹیکنولوجیکل سازوسامان اور کلاس روم کی مزید furnishing سے جوڑنا غلط ہے۔ بیچ کا اصل کام وہیں پڑا رہ جاتا ہے ـــ یعنی بچّہ۔ سوچنا یہ ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اُن کی سماجی، جذباتی اور ادراکی اعتبار سے کیسے بہتر بنائی جائے۔ اِس ضمن میں ایک افسوسناک صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ دنیا اِس حوالے سے گویا ایک نفسیاتی پاگل پن کا شکار ہے۔ کیسے؟
بچے کی ادراکی، سماجی، اور جذباتی ضرورتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اُسےوہی پرانی والی بے رحم رُوٹین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اُس بچّے سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ کیا پڑھنا چاہتا ہے؟ کیسے پڑھنا چاہتا ہے؟ کیا سیکھنا چاہتا ہے؟ کیسے سیکھنا چاہتا ہے؟ وہ کیا جاننا چاہتا ہے؟ اسے کیا اچھا لگتا ہے؟ اگر آج کا ٹائم ٹیبل وہ خو د بنائے تو کیسا ہو گا؟ پہلے کیا پڑھنا چاہے گا؟ کب اور کیا کھیلنا چاہے گا؟ سکول اور ٹیچر کو کس حد تک اس بچّے کی زندگی dictate کرنی چاہئیے؟
جی ہاں، یہ زیادہ اہم سوالات ہیں۔ جدید طرزِ تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انفرا سٹرکچر اِمپروو کر لیا جائے اور بس! غلطی سے، عمارت کا رنگ رُوپ بدل ڈالنے اور اُس اندر کچھ جدید آلات نصب کر دینے کو جدید نظامِ تعلیم سمجھ لیا گیا ہے۔ دِلی معذرت، ایسا نہیں ہے۔ آپ کا سٹاف کسی برٹش کونسل سے ٹریننگ لے کر آ گیا ہے۔ بھلے ہارورڈ یونیورسٹی کا چکر ہی کیوں نہ لگا آئے۔ یہ جدید نظامِ تعلیم نہیں ہے۔ یا یہ کہ آپ کی کتب کا مواد درسِ نظامی والوں سے زیادہ اپ ڈیٹڈ ہے؟ آپ نے کیمبرج اور آکسفورڈ کی کتابیں لگا رکھی ہیں؟ یہ سب اچھا ہے، خوب اچّھا، لیکن خود بچّے کو دیکھنے کا ہماراانداز اگر نہیں بدلا، تو یقین جانیں کچھ نہیں بدلا۔ اور ہم اب بھی کُہنہ سال روایتی طرزِ تعلیم یعنی traditional schooling کی بند گلی میں سے باہر نہیں آئے۔
تو بات یہ ہے کہ بِلڈنگ نہیں، مائنڈ سیٹ بدلنے سے سسٹم بدلے گا۔
مائنڈ سیٹ کس کا؟
ٹیچر کا، والدین کا، ایڈمنسٹریشن کا، حکومت کا ــــ سب سٹیک ہولڈرز کا جو بچے کو تعلیم دینے کے عمل میں اِنوالو ہیں۔
بچّے کی حیثیت سارے سسٹم میں مرکزی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب کچھ بچے کو تعلیم دینے کی خاطر ہی تو کِیا جا رہا ہے۔ مجھے اصرار ہے کہ ایسا نہیں ہے!
یہ اہم کام ہم لوگ نہیں کر رہے۔ تعلیمی ادارے نہیں کر رہے۔ وژنری ماہرینِ تعلیم کی آنکھیں بھی اِس اعتبار سے بند نظر آتی ہیں۔ یقین جانیں ہم لوگ کوئی نئی شے اختراع نہیں کر رہے! تعلیمی نظام میں اِمپروومنٹ کا مطلب غلطی سے بس یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ:
اُسی رویتی طرزِ تدریس کو ذرا زیادہ digitalize کر دیا جائے۔
ٹیچر یا معلّم کو جو مواد کتاب میں سے پڑھ یا پڑھوا کر explain کرنا تھا، اب وہ سمارٹ بورڈ پر دکھا سکتا ہے۔
ورک شیٹس بھی اسی الیکٹرونک بورڈ پر دکھا کر زبانی یا تحریری جواب طلب کر سکتا ہے۔
لکھنے کے تردّد سے نجات مل گئی۔ وقت کی بھی بچت ہوئی۔
نیز، ڈائیاگرام وغیرہ دکھانے کا عمل بھی آسان ہو گیا۔
اسی طرح بچّے کی سطح پر بھی ٹیب اور لیپ ٹاپ نے وقت بچا لیا (اگرچہ ہمارے یہاں سکولز کی سطح پر ٹیب، یا فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ لیجانےکی اجازت نہیں ہے کہ اِس میں مسائل ہیں۔ یعنی بیشتر سکولز میں کمپیوٹر کا استعمال بس کمپیوٹر لیب تک محدود ہے)۔
کمرے ایئر کنڈیشنڈ ہو گئے۔
سکول گیٹ پر حاضری لگانے کوthumb impression والی مشین نصب کر دی۔
انٹرنیٹ کی سہولت ادارے کے درودیوار میں عام ہو گئی۔۔۔۔ وغیرہ۔
بچّے کے لئے وہی dull روٹین ہے اور بس! نظام کا ناک نقشہ نہیں بدلا، صاحب۔ بلکہ اس کے وجود پر چڑھے کپڑے بدل دئیے گئے۔
نظام اپنی سپرٹ میں بعینہ وہی ہے جو ساٹھ برس پہلے رائج تھا۔ کیسے بدلے گا، کیا کرنا ہو گا؟ اگلی قسط میں، انشااللہ۔
پہلے ذہنوں پر طاری یہ گردوغبار جھاڑنا ضروری تھا۔

Friday, May 25, 2018

بچوں کی تعلیم و تربیت – قسطِ اول

تحریر: ہمایوں مجاہد تارڑ
روزمیری وارڈ لبری نام کی یہ 60 سالہ امریکن خاتون اب میڈ فورڈ (نیو جرسی) میں مقیم ہیں۔ پہلے یہ فلے ڈیلفیا میں رہا کرتیں۔ مشہور آن لائن میگزین Quora Digest پر اس عظیم خاتون کے تعارف میں جلی حروف میں لکھا ہے:
چیمپئین ہوم ایجوکیٹر آف فورسکالرز
یعنی Rosemary اپنے چار بچوں کی کامیاب ہوم سکولنگ کرنے، انہیں فی الواقع 'سکالرز' بنا کر اس competitive worldکے پلیٹ فارم پر لانچ کرنے، انہیں بہ صد اعتماد اپنے اپنے فیلڈ میں تگ وتازِ حیات کرنے کے قابل بنانے کا سو فیصد کریڈٹ لیے ہوئے ہیں۔ یہ خاتون، عمومی امریکن کلچر کے برعکس، اِس اعتبار سے بھی ایک سُوپر کامیاب اور خوش قسمت خاتون ہیں کہ اپنے اولین، پہلے، واحد شوہر کیساتھ ایک ہی شادی کی گاڑی پر سوار عمر ِعزیزکا یہ پُل عبور کیے بیٹھی ہیں۔اِس کا کریڈٹ بھی بظاہر انہی کو جاتا دِکھائی دیتا ہے کہ اِن کے ہَز بینڈ کی کوئی contact details ہمیں سرِ دست دستیاب نہیں۔
خیر، Quora ڈائجسٹ پر جب کوئی صاحب سوال پوسٹ کرتے ہیں تو اُس کے لیے ایکسپرٹ آنسر لکھنے والوں میں روز میری کا شمار خاص ماہرین میں ہوتا ہے۔ یہ اب تک 723 جوابات لکھ چکیں، اور اِن کے ایکسپرٹ آنسرز کے views لاکھوں میں ہیں۔
اب چونکہ یہ ایک رول ماڈل ہیں، اور تربیتِ اطفال کے باب میں بہاؤ کی مخالف سمت چل کر دکھاچکیں، اِن کی رائے قابلِ صد احترام ہونی چاہئیے کہ جو کچھ کہا یا بولا جاتا ہے، وہ اِن پر بیت گیا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں ایسی moms اور ایسے dads کی اب اچھی خاصی تعداد موجود ہے جو اِس تجربہ کو مزید سندِ تصدیق فراہم کرتی ہے۔ خود امریکہ میں اس گزرتی ساعت کوئی دو ملّین یعنی 20 لاکھ بچے ہوم سکولنگ کےتجربے سے گزر رہے ہیں جہاں ہوم سکولنگ کو باقاعدہ سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے اور اس سے متعلق کافی حد تک sources اور سپورٹ خود سرکار مہیا کرتی ہے۔ امریکہ کے طول و عرض میں ایسی بے شمار کہانیاں بکھری پڑی ہیں جِن پر لکھے - دیگر والدین کے لیے مینارہِ نور بنے - سینکڑوں بلاگز بہ آسانی دستیاب ہیں ۔
ہم بتدریج ایک پروگرام کی طرف بڑھیں گے جِس خاطر یہ بیک گراؤنڈ دینا بے حد اہم تھا (اور اہم رہے گا کہ بعد کی اقساط میں بھی بیک گراؤنڈ والی تفصیل مزید آئے گی)۔ یہ میرا ایک پراجیکٹ تھا جس کے خدوخال اب مکمل ہو چکے، اور جس کے لانچ ہونے سے قبل اِس کی تفصیل کا یوں شیئر کیے جانا اس لیے ضروری ہے کہ جس کسی کو بھی ناچیز کا ہمرِکاب ہونا ہے، ساری بات خوب تفصیل میں سمجھ لے۔
روز میری وارڈ لبری کی ایک پوسٹ کیمطابق (نیز گوگل کرنے سے بھی یہ انفارمیشن بہ آسانی دستیاب ہے) امریکہ کے نیشنل ہوم ایجوکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے جب سروے کیا کہ آیا ہوم سکولنگ کے تحت تعلیم پاتے بچوں کی قابلیت ریگولر سکولنگ والے بچوں کے مقابلہ میں کمتر ہے یا کیسی جا رہی، تو حاصل کردہ اعدادو شمار خاصے حیران کن تھے۔یہ ہوم ایجوکیٹڈ بچے جن سٹینڈرڈائزڈ ٹیسٹس میں appear ہوئے، ریگولر سکولنگ والے بچوں سے consistently بہتر رزلٹس لیکر آئے۔ اِن کی رائٹنگ سکِلز ، وسعتِ مطالعہ، وژن وخود اعتمادی وغیرہ اُن سے کئی گنا بہتر تھیں۔ مثلاً SAT Test میں اِن کے سکورز مسلسل بہتر جارہے ہیں۔ ہوم سکولنگ کے پانچ سات برسوں میں جتنی کتابیں اِن بچوں نے ہضم کیں، ریگولر سکولنگ والے اُس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ریگولر سکولنگ تو بس ایک چل چلاؤ کا نام ہے۔
روز میری وارڈ سے کسی نے پوچھا ہے، آپ نے اپنے بچوں کی سیلف لَرننگ کا پروگرام کس طور نبھایا؟
جواب ملا: میرے اس پروگرام کے خدو خال کچھ یوں رہے:
1- میں نے انہیں سکول نہیں بھیجا۔
2- میں نے انہیں اس لگے بندھے لازمی نصاب سے بھی دور رکھا۔
3- بلکہ ہمارے گھر میں سیکھنے کی قدروقیمت کا جاننا اور اس پر عمل پیرا رہنا ہی سب کچھ تھا۔ اس پر ہمارے یہاں دن رات بات ہوا کرتی۔ حصولِ علم بذریعہ مطالعہ کی promotionکے رول ماڈل خود میں اور میرے شوہر تھے۔ بتدریج گھر کتابوں اور رسالوں سے بھر دیا گیا۔ ہر وقت کتابیں پڑھی جا رہی ہوتیں، اور کتابوں پر تبصرے کیے جا رہے ہوتے۔ بُک ریڈنگ کو بچوں کے روبرو ہم لوگوں نے اعلٰی ترین قدر کے بطور پیش کیا۔ یُوں، یہ قدر یا value از خود بچوں کی رگ رگ میں سما گئی۔
4- الیکٹرونک ڈیوائسز کا استعمال سخت محدود رکھا گیا۔
5- بچوں میں جو رویے پنپتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، اُن کا خود اپنے طرزِ عمل کے ذریعے بھرپور مظاہرہ، بے لچک مستقل مزاجی اور پابندی کیساتھ کیا گیا۔ اِس باب میں ریڈنگ کرنا سرِ فہرست رہا۔ یہ ریڈنگ کلچر آج بھی جاری و ساری ہے۔
6- امتحان یا ٹیسٹ ویسٹ کی خِفت سے کامل دوری۔ یہ بچے کے فطری تجسس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔یعنی اس کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ وہ فطری تجسس جس کے بطن سے از خود تحصیلِ علم یعنی self-directed learningپروان چڑھتی ہے، یہ اس کا قاتل ہے۔(بطور استاد میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ ٹیسٹ کلچر بچے کی نفسیات کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔یہ صریحا ًہمت شکن عمل ہے۔)
7- بیسیوں میوزیم ٹرِپس۔ خوب ڈھیروں آؤٹ ڈور ایکسپلوریشن outdoor explorationاور خوب ڈھیروں سفر۔ اس سفر میں بھی رِیڈنگ۔ اور ریڈنگ کے علاوہ اپنے مشاہدات کو قلم بند کرنے، دیکھے ہوئے کو ڈسکرائب کرنے کا جوش و خروش۔
8- وقفے وقفے سے ٹاپ یونیورسٹیز کے وزٹس۔ حتی کہ جب وہ ایلیمنٹری سکولنگ کی سطح پر تھے، تب سے۔ اس کا مقصد انہیں موٹی ویشن فراہم کرنا تھا کہ زیادہ ریڈنگ کیا معنے رکھتی ہے، اور انہیں آخرِ کار کس ٹارگٹ پر لینڈ کرنا ہے۔
9- بچے جب 6 گریڈ کی سطح تک آ گئے تو ان میں سے ہر ایک کو اِس Great Courses سیریز میں سے گزارا گیا:
''سُوپر سٹار سٹوڈینٹ کیسے بنا جائے؟'' یہاں اس سیریز کا ایک لِنک مہیا کیا گیا ہے۔
10-گھر میں اس کلچر آف لَرننگ کو پروان چڑھانے میں ورائٹی کا پورا اہتمام رکھا گیا۔ یعنی رِیڈنگ کے علاوہ شطرنج، دیگر دماغی قوت بڑھانے والی گیمز، کُوکنگ، پَزلز، بِلڈنگ ٹُولز، آرٹ وغیرہ کا خوب اہتمام رکھا گیا۔
11-میں پھر کہوں گی کہ سکرین کا استعمال محدود رکھنا ہماری خاص ترجیحات میں رہا۔ ہم اس میں پوری طرح کامیاب ہوئے، چونکہ ہم پوری طرح اِنوالو تھے۔موبائل فون، آئی پیڈ وغیرہ ایسے شیاطین کو خوب باندھ کر رکھا گیا۔
گویا ہوم سکولنگ ایک پورا لائف سٹائل ہے۔ جس کسی نے اسے اپنانا ہے، خوب سوچ سمجھ کر، تول پرکھ کر فیصلہ کرے۔ احسان دانش مرحوم کا ایک شعر یاد آیا جو استادِ محترم پروفیسر احمد رفیق اختر اپنے لیکچرز میں quoteکیا کرتے ہیں:
یونہی دنیا کے لیے ایک تماشا نہ بنے
جس کو بننا ہو سمجھ سوچ کے دیوانہ بنے
روز میری وارڈ کا کہنا ہے، والدین کو عملا وہ سب کچھ کرنا ہو گا ، اس سارے عمل میں سےخود ہوگذرنا ہو گا جو وہ اپنے بچوں کو کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک عظیم کمٹمنٹ ہے، اور اسے نبھانے کی ایک قیمت ہے جو آپ کو ادا کرنا ہو گی۔ یہ unwilling parents کے کرنے کا کام نہیں۔ یہ جاب، یہ عظیم پراجیکٹ بلا کی منصوبہ بندی، مستقل مزاجی اور کمٹمنٹ کا متقاضی ہے، نہ کہ دوچار روز کا جوش و خروش۔
روز میری وارڈ کا یہ سفر بیس برس پیشتر شروع ہوا تھا۔ پوچھا گیا کہ اب آپ کے بچے کس سٹیج پر ہیں؟ کہاں پہنچے؟ کیا کھویا کیا پایا؟ تو جواب ملا – وہ سب کے سب خوب پڑھ لکھ گئے، اچھے اچھوں سے بھی اچھا پڑھ لکھ گئے۔ وہ سب کے سب گروپ تھنکنگ پیٹرن پر تربیت ہوئے ہیں۔ اوریجنل تِھنکرز ہیں۔ ریسرچ کے رسیا ہیں۔ کوئی بھی موضوع ہو، اس کے بخیے ادھیڑ ڈالنے والا رجحان پایا ہے۔ مجھے اُن کی learning پر بجا طور پر بڑا فخر ہے۔ چار بچوں میں سے دو Ivy League Universitiesمیں جا چکے (یہ دنیا کی آٹھ عدد ٹاپ جامعات کا ایک گروپ ہے جس میں ہارورڈ یونیورسٹی بھی شامل ہے اور اس گروپ میں شامل کسی یونیورسٹی میں ایڈمشن کے معیارات خاصے بلند، خاصے سخت ہیں۔ یہ جامعات قطعی سُوپر برین کے حاملین سُوپر قابلیت والے طلبہ و طالبات کو ہی ایڈمشن کے لیے قبول کرتی ہیں)، جبکہ ایک USNA میں چلا گیا ہے ، یعنی یونائیٹڈ سٹیٹس نیول اکیڈمی میں ۔ چوتھا ، سب سے چھوٹا ، میٹرک کی سطح کے سٹینڈرڈائزڈ ٹیسٹ میں appear ہونے کو تیاری کے مرحلہ میں ہے۔ اس انفارمیشن کیساتھ ہی نیچے بچوں کی یہ خوبصورت تصویر شیئر کی گئی ہے۔
آئیں ، اب اپنی دنیا میں لوٹ چلیں، اور دیکھیں یہاں کیا کچھ برپا ہے۔
کوئی دس روز پہلے امریکہ سے ایک دوست نے مجھے تین عددکتابیں بطور تحفہ بھجوائیں۔ واٹس ایپ پر ان کتابوں کا تعارف وہ پہلے سے کروا چکے تھے - اس وضاحت کیساتھ کہ یہ کتابیں نیویارک کے دو عدد ایسے سکول ٹیچرز نے لکھی ہیں جنہوں نے کلاس روم سیچوئیشن میں براہ راست پڑھاتے عمر گذاری تھی۔ وہ سکول کے قید خانے میں بچوں کو بٹھا کر لگاتار سات آٹھ پیریڈز اُن پر جبرا ًٹھونسنے والےاس تعلیمی نظام سے یعنی mass public education خت برگشتہ تھے۔ وہ دورانِ ملازمت بھی اس سسٹم کے سخت ناقد رہے۔ پچیس تیس برس اِس بیگار محنت میں گزار چکنے کے بعد بد دل ہو کر بالآخر وہ ایک روز چھوڑ گئے۔اپنے خیالات منظم انداز میں کمپوز کیے، اور پھر اپنی محدود سی دنیا میں ایک نیا جہان آباد کر ڈالا۔ دوست کا کہنا تھا، اِن امریکن اساتذہ کے خیالات بالکل تمہاری طرح کے ہیں، ضرور پڑھنا۔ کتابیں اُس دوست کے کزن نے پاکستان پہنچتے ہی میرے ایڈریس پر ارسال کر دیں۔ پڑھنا شروع کیا تو بس گم ہی ہو گیا۔
اس سارے مواد اور خود بیتی کی روشنی میں خود ہمارے لیے راہِ عمل کیا ہے؟ اِس مِشن امپاسبل کے خدو خال شاید پانچویں قسط میں شیئر کر سکوں گا۔ فی الحال آپ دوسری قسط کا انتظار کیجے۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)

Wednesday, May 16, 2018

Make A Choice




Don't let your grief, your sadness, your fear or your any sensory deprivation or perceptual isolation make you to forget your part in this world...Neither your sadistic attitude can change this world, nor this world can change your sadistic attitude, it is you who can make a choice to change and make your own world...
as Allah says in Quran
وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا
Do not forget your share of this world.
▬▬▬▬▬▬▬
Al-Quran 28:77

جیسا کہ اس آیت کے پچھلے حصے میں اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں، کہ وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ جو کچھ تجھے الله نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر حاصل کر

مظلب اگر مال دیا ہے، تو پھر اُس کو اللہ کی محبت میں غریبوں اور مساکینوں اور گھر والوں پر خرچ کرو، اگر فراغت (فارغ وقت) دیا ہے، تو اُس فراغت کو اللہ کی یاد میں صَرف کر، اگر صحت دی ہے، تو اپنی صحت کو اللہ کے لئے صَرف کر، یہ سب کچھ اُس کے شکر میں کر تانکہ تجھے آخرت میں اس سے بہتر صلہ ملے، اگر ان چیزوں میں اللہ نے کچھ نہیں بھی دیا تو پھر بھی تو اُس پر صبر کر، کیونکہ خدا کی طرف سے آنے والے ہر غم کا صلہ بھی ہے اور اُس کا حصہ تیرے لئے آخرت میں چھوڑا گیا ہے، 

آگے اللہ تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں، 
وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا
اور تُو اس دنیا میں سے اپنا حصہ لینا نہ بھول جانا۔

مظلب جو مال، صحت، فراغت، تجھے ملی ہے ، تُو اُن کو صرف اللہ کے لئے نہیں بلکہ خود کو بھی اُن دی گئی نعمتوں سے لُطف اندوز کر، مال کو اپنے اوپر بھی خرچ کر، صحت میں دوستوں یاروں، گھر والوں کے لئے وقت نکال اور گھوم پھر، فراغت میں کوئی صحت مندانہ activity کر لے، جیسا کہ کسی gym میں exercise کرنا، کرکٹ کھیلنا، دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا۔۔۔ اور اگر یہ نعمتیں یا ان میں سے کوئی نعمت تجھے نہیں بھی ملی، تُو پھر بھی اپنے لئے کچھ وقت نکال کیونکہ کہ تیرے جسم کا تجھ پرحق ہے۔

جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کو نصیحت کی، کہ 
’’اے عبداللہ بن عمرو مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر قیام کرتا ہے تو اس طرح نہ کر کیونکہ تیرے جسم کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری آنکھوں کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے تو روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر ہر مہینے میں سے تین دنوں کے روزے رکھ یہ زمانے کے روزوں کی طرح ہے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے رھے

عبداللہ بن عمروؓ جب بوڑھے ہو گئے تو اپنے بڑھاپے کی وجہ سے اپنی پرانی routine برقرار نہیں رکھ سکے تو مشکل میں پڑ گئے، تو آپؓ نے فرمایا 
يَا لَيْتَنِي أَخَذْتُ بِالرُّخْصَةِ 
کاش کہ میں نے آپ ﷺ کی طرف سے دی گئی رخصت پر عمل کرلیا ہوتا۔‘‘

مظلب جوانی میں ہوش سے کام لیتا نہ کہ جوش سے۔۔۔ 

کتاب الصیام، صحیح مسلم

لہذا چاہے ہم مشکلات میں ہوں یا آسانیوں کے دور سے گزر رہے ہوں، چاہئے ہم غم میں ہوں یا خوشی میں، ہمیں اپنے لئے اُس اچھے یا بُرے دَور میں وقت نکالنا چاہئے، exercises, ہوں یا کوئی بھی healthy activity ہو، اُن میں اپنی contribution دینی چاہئے۔ یہ رُخصت اللہ تعالٰی کی دی گئی ہے، اس کو avail کرنا چاہئے۔ اور یہ سب صحت مند سرگرمیاں ہمارے لئے خدا نے پیدا کی ہیں تانکہ ہمارا ذہن ہر طرح کی کوفت سے بچا رہے، ہر طرح کی صحت مندانہ سرگرمیاں ہماری عمر میں اضافہ کرتی ہیں۔

قرآن میں اللہ کا ارشادِ گرامی ہے

مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ 
ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑے رہو۔

القرآن 20:2

Monday, June 12, 2017

How To Retain More From The Books You Read In 5 Simple Steps




1: Have A Purpose:
I strongly believe that the content of books should align with what’s going on in your life. Only read books that teach you how to overcome your current challenges.

2: See Yourself As A Teacher:
Sharing knowledge is a great application. You might not be a teacher, but if you act like one, you’re already applying knowledge

3. Highlight & Make Mental Connections:
The more connections you make between pieces of information in your brain, the better you remember it. I do that by making a lot of notes. just don’t forget to highlight interesting passages.write down why you highlighted something, not always but for important notes.

4. Visualize & Imagine:
Another great way to make connections in your mind is by visualizing what you’re learning. I imagine myself sitting together with a friend and talking about the subject. Or, when I read a piece of useful advice, I visualize myself actually doing that thing.

5. Immediately Apply One Piece Of New Knowledge.
Ask yourself: How can I grow? That can be personally, financially or spiritually.Understand that growth doesn’t happen by itself. it all takes hard work.But you can make that growth a lot easier if you apply the things you learn in books.

"Remember: Knowledge alone is completely useless."
You must go out there and apply things you learn.. always ask yourself this after you finish a book. “What’s the one thing I’m going to apply after reading this book?”. it’s about what you do with your knowledge, not about how much you have. Don’t read more. Read smarter.





Thursday, September 17, 2015

حج کی اصل مقصدیت


حج کے لغوی معنی ہیں کہ کسی جگہ کی زیارت کیلئے قصد کرنا، یا عظمت والی جگہ کا ارادہ کرنا۔۔۔ شریعت میں حج کے معنی مخصوص مقامات کا مخصوص فعل کے ساتھ مخصوص زمانے میں ارادہ کرنا۔
اور مکہ کا مادہ "مک" ہے جس کے معنی جذب کرنا ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ مکہ ہر سرزمین و دیار سے لوگ کھینچ لاتا ہے ۔ مکہ کا ایک مادہ "مکک"جس کے معنی ہلاک ہونا اور کم ہوجانا ہےچونکہ مکہ یعنی وہ مقام ہے جس کی طرف کوئی بھی ظالم بد نیتی سے دیکھے گا اس کا انجام ہلاکت اور نابودی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
قرآن و حدیث میں حج کی فرضیت اور اہمیت بڑے واضع الفاظ میں ہے، حج کا طریقہ ، ایام، افعال ہر خاص وعام پر عیاں ہیں، اور مکہ کی فضلیت پر خود قرآن گواہ ہے،
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
(یقینا سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیےمرکز ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے)
اور پھر خدا نے خود اِس شہر کی قسم کھائی ،
لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ
میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں
خدا نے اس شہر کو "اُم القری"یعنی تمام قصبوں کی ماں کہا،عربی میں اُم کا ایک معنی جَڑ بھی ہے، خدا نے مکہ کو "اُم القری" کہہ کر اسے تمام آبادیوں کی جڑ ٹھہرا دیا، خدا نے مکہ شہر کو "بلد الحرام" کہا، یعنی وہ شہر جہاں ہر طرح کا حکم ماسوائے خدا کے حکم کے حرام ہے ، خدا نے مکہ شہر کو "بلد الامین" یعنی امن والا شہر کہا۔ خدا نے مکہ شہر کو " مثابۃللناس "کہا یعنی لوگوں کی بار بار پلٹنے اور لوٹنے کی جگہ۔ خدا نے مکہ شہر کو " وضع للناس " کہا، یعنی تمام لوگوں کے مقررہ جگہ جس پر انہیں اکٹھا کیا جائے، الغرض خدا نے شہر مکہ کو مرکز بنا کر حج کو اسلام کا اہم رُکن بنا دیا تانکہ مسلمانوں میں اس حج کے توسُّط سے اس شہر کی مرکزیت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی لئے مکہ کے تمام کے تمام نام دنیائے اسلام میں اُس کے مرکز ہونے کی واضع دلیل ہے۔
۔
ہم صرف حج کرنے والوں کو ایام ِ حج میں داخل اور حج سے مستفید سمجھتے ہیں،اور خودکو ہم ایامِ حج سے مبرا سمجھتے ہیں، ، یہ ہماری اپنی کم عقلی اور کم علمی ہے کہ جو ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ حج کرنے والے ہی ان خاص ایام سے بہرہ مند ہیں، مگر خدا کو اُس شخص کا بھی خیال ہےجو حج تو کرنا چاہ رہا ہے مگر حج کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ جیسا کہ خدا نے ان ایامِ حج کی قسم کھائی ہے، جس طرح اُس نے اپنے شہر مکہ کی قسم کھائی،
وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ
مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔
ہم لوگ اپنی قَسم پوری کریں نہ کریں مگر خدا اپنی قَسم پوری کرنا جانتا ہے،ان ایام کی قَسم کھانے کا مقصد ہر خاص و عام پر اپنی رحمت کو نچھاورکر نا ہے ، یہ کیسے ممکن ہے، کہ کسی چیز کے مرکز میں ہنگامہ بپا ہو اور اُس مرکز سے متصل لوگ اُس ہنگامہ سے محفوظ رہیں؟ یا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مرکزیت والا انعام و اکرام سے بہرہ مند ہوں اور اُس مرکزیت سے متصل سے اُن انعامات سے بے بہرہ رہیں ؟ ہاں یہ انسان کا قانون تو ہو سکتا ہے، مگر خدا کا قانون نہیں، جب بارانِ رحمت برستی ہے تو اُس کی رحمت سے ہر اچھے بُرے، خاص و عام پر برستی ہے،ان ایام میں بارانِ رحمت صرف مرکز (مکہ) میں نہیں بلکہ مرکز سے متصل ہر شخص پر برستی ہے،
ہر سال حج مقرر کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں، ان سب وجوہات میں سب سے بڑی اور اہم وجہ اسلام کی مرکزیت کو قائم رکھنا ہیں، یک لباس ، یک الفاظ کے ساتھ ایک خدا کے حضور پیش ہو کر اسکی کبریت کا اعتراف کرنا ہے،اُس مرکز کی رُکنیت والوں کا اپنی استطاعت کے مطابق وہاں اپنی موجودگی اور حاضری دینا ہے ، اور جو استطاعت نہیں رکھتے اُن کی رُکنیت و شمولیت کی بھی حاضری اور گواہی دینا ہے ، حج مقرر کرنے کی اصل مقصدیت یہی ہے۔
بلکہ بات صرف حج کی نہیں ہے، بات ذوالحجہ کے ان دس اور اہم ایام کی ہے، اگر ان ایام میں مرکز (مکہ) میں مقررہ عبادت ہے تو اُس مرکزیت سے متصل ہم سب لوگوں کو بھی عبادات میں مشغول رہنے کو کہا گیا ہے،یہ بات ہمارے لئے حُکماً نہیں بلکہ ہمارے لئے تعزیماً ہے ، فرمانِ رسول ﷺ ہے،
مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ اْلأيَّامِ الْعَشْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وََلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: وََلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إَِلا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی ( اسے نہیں پا سکتا ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد بھی نہیں ، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں “
صحيح / صحيح سنن الترمذي، (757)؛ صحيح سنن أبي داود، (2438)؛ صحيح سنن ابن ماجه (1753). صحیح بخاری ( 2 / 457 )
۔
اگر مرکزیت والے بال اور ناخن نہیں کٹائیں گے تو مرکز سے متصل ہم سب لوگ اُسی پروٹوکول کو اپنائے گے، یہ سب باتیں حُکماً نہیں بلکہ تعزیماً ہیں، قولِ رسول ﷺ ہے،
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا. قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لاَ يَرْفَعُهُ ، قَالَ: لَكِنِّي أَرْفَعُهُ
جب (ذوالحجہ ) کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو بالکل نہ کاٹے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: جب تم ذو الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو روکے رکھے۔
صحيح مسلم، (5119)، (5118)
۔
اگر مرکزیت سے لبيك اللهم لبيك .لبيك لا شريك لك لبيك سے پکاریں جاری ہوں گی تو مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگوں کے لئے بھی قولِ رسولﷺ ہے کہ
" اللہ تعالى كے ہاں ان دس دنوں سے عظيم كوئى دن نہيں اور ان دس ايام ميں كئے جانے والے اعمال سے زيادہ كوئي عمل محبوب نہيں، لہذ اتم لاالہ الا اللہ، اور سبحان اللہ ، اور تكبيريں كثرت سے پڑھا كرو"
اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور اس كي سند كو احمد شاكر رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے:
مسندامام احمد بن حنبل( 7/ 224 ) .
۔
اگر مرکز والوں (مکہ میں حج کرنے والوں) کے گناہوں کی بخشش ہے جیسا کہ قولِ رسول ﷺ ہے کہ
"جس شخص نے الله کے لیے حج کیا، (اس دوران میں) کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا"۔
(صحیح البخاری، الحج، حدیث: 1521)
۔
تو اُس مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگوں کے لئے بھی قولِ رسول ﷺ ہے،
جس نے یوم التراویہ (آٹھویں ذوالحجہ) کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف کردے گا‘‘۔
(ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب الصیام، 5 : 407، رقم : 728)
یومِ عرفہ صرف عرفات میں اللہ کے کئے جمع ہونے والوں کے مخصوص نہیں بلکہ یومِ عرفہ تو اس اُمت کے ہر خاص و عام کے مخصوص ہے، قولِ رسول ﷺ ہے، کہ
کوئی دن ایسا نہیں کہ جس دن یوم عرفہ سے زیادہ لوگوں کو دوزخ سے نجات دی جاتی ہو"۔
(صحیح مسلم)
۔
اسی طرح یومِ نحر صرف مرکز والوں کے مخصوص نہیں بلکہ یومِ نحر اس اُمت کے ہر صاحبِ استطاعت کے مخصوص ہے، اگر مرکز (مکہ) والے قربانی کا جانور دیں گے اورتو اپنے مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگ بھی قربانی کا جانور دیں گے، یہ قربانی بھی ہماری طرف سے گواہی ہے کہ ہم بھی اُس مرکز(مکہ) کی رُکنیت میں شامل ہیں،
حج کی مقصدیت، مرکزیت کو قائم کرنے کے علاوہ، اراکینِ مرکز کی رُکنیت کو بحال بھی رکھنا ہوتا ہے، اور بیت اللہ ہم سب مسلمانوں کا مرکز ہے ، اُس مرکز کی رُکنیت میں ہم سب ارکینِ مرکز شاملِ حال ہیں ، جو بیت اللہ کی طرف منہ کر پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں وہ تمام اراکینِ مرکزاپنے مرکز بیت اللہ پر مرکوز اور اُس مرکز سے متصل ہیں۔ تمام ارکینِ مرکز کا اس مرکز پر اتنا ہی حق ہے جتنا اُس میں رہنے والوں کا حق ہے،
قرآن میں خدا تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے کہ
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ
مسجد حرام جسے ہم نے سب لوگو ں کے لیے بنایا ہے وہاں کا رہنے والا اور باہروالادونوں( اِس گھر کی ملکیت اور رُکنیت میں) برابر برابر ہیں۔
﴿سورہ الحج: ٢٥﴾
۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

Friday, September 11, 2015

An amazing advice by the great scholar, Ibn Al-Qayyim:

 "A friend will not (literally) share your struggles, and a loved one cannot physically take away your pain, and a close one will not stay up the night on your behalf...so look after your self, protect it, nurture it... and don't give life's events more than what they are really worth... Be certain that when you break no one will heal you except you, and when you are defeated no one will give you victory except your determination... your ability to stand up again and carry on is your responsibility... Do not look for your self worth in the eyes of people; look for your worth from within your conscience ... if your conscience is at peace then you will ascend high... and if you truly know yourself then what is said about you won't harm you.
Do not carry the worries of this life... because this is for Allah... and do not carry the worries of sustenance because it is from Allah... and do not carry the anxiety for the future because it is in the Hands of Allah...
Carry one thing: How to Please Allah. Because if you please Him, He Pleases you, fulfills you and enriches you. Do not weep from a life that made your heart weep... just say "oh Allah... compensate me with good in this life and the hereafter".
Sadness departs with a sajdah... happiness comes with a sincere du'a... Allah Does Not forget the good you do...nor Does He Forget the good you did to others and the pain you relieved them from... Nor Will He Forget the eye which was about to cry but you made it laugh...
Live your life with this principle: Be good even if you don't receive good... not because of other's sake but because Allah Loves the good doers".

Tuesday, September 1, 2015

Dost

Kahoon dost se dost ki baat kya kya
Rahi dushmanon se mulaaqaat kya kya
What wondrous secrets should I speak of to the Friend who lives in His friend’s heart?
What moment was spent in the thought of anything but Him?
Wuh ‘ishwe wuh ghamze
wuh naghme wuh jalwe
Talab kar rahe ham- aafaat kya kya
Those heart-stopping glances, those mischievous graces
That rapturous music, that dazzling unveiling
What wondrous calamities we are seeking!
Jahaan mujh ko aaya khayaal aa gaye wuh
Dikhaayi hain dil ne karaamaat kya kya
As soon as His thought appeared, He appeared in my heart
what wondrous miracles the heart has accomplished!
Nah thi guftugu darmiyaan phir bhi un se
Pas-i parda-i dil hui baat kya kya
Though nothing was said to Him face to face
What wondrous conversation occurred behind the curtain of the heart!
Kahoon dost se dost ki baat kya kya
What wondrous secrets should I speak of to the Friend who lives in His friend’s heart? 

Saturday, August 29, 2015

معرفت کا سفر

از شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ
▬▬▬▬▬▬▬▬
''جب بندہ کسی بلا یا مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پہلے خود اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر نجات نہیں پاتا تو مخلوقات میں اوروں سےمدد مانگنا ہے مثلاً بادشاہوں یا حاکموں یا دنیاداروں یا امیروں سے اور دکھ درد میں طبیبوں سے۔ جب ان سے بھی کام نہیں نکلتا۔اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دعا و گریہ زاری و حمد و ثنا کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔ پھر جب خدا کی طرف سے بھی مدد نظر نہیں آتی تو (بے بس ہوکر) خدا کا ہی ہورہتا ہے۔ ہمیشہ سوال و دعا ، اور گریہ زاری اور ستائش و اظہار حاجتمندی رجاء و خوف کے ساتھ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو دعا سے تھکا دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ تمام اسباب علیٰحدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اس میں قضا و قدر کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے اندر کام کرتا ہے تب بندہ کل اسباب و حرکات سے بے پروا ہوجاتا ہے اور روح صرف رہ جاتی ہے۔ اسے فعل حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ ضرور بالضرور صاحب یقین موحد ہوتا ہے۔ قطعی طور پر جانتا ہے کہ درحقیقت خدا کے سوا نہ کوئی کچھ کرنے والا ہے ، نہ حرکت و سکون دینے والا ہے۔ نہ اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں اچھائی ، بُرائی،نفع و نقصان، بخشش و حرمان، کشائش و بندش ، موت و زندگی، عزت وذلت،غناو فقر۔
۔
یوں تقدیر کے اترتے وقت بندہ کی ایسی حالت ہوتی ہے، جیسے شیرخوار بچہ دایا کی ہاتھ میں یا مردہ غُسّال کے ہاتھ میں یا (پولو کی) گیند(چگان)یعنی سوار کے ہاتھ میں، اور انہیں بار بار الٹا یا پلٹا یا جاتا ہے اور انہیں ایک علیحدہ اپنی صورت دے دی جاتی ہے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی حرکت نہیں نہ اپنے لیے نہ کسی او رکے لیے ،یعنی بندہ اپنے مالک کے فعل میں اپنے نفس میں غائب ہوجاتا ہے او راپنے مالک او راس کے فعل کے سوا نہ کچھ دیکھتا سنتا ہے، نہ کچھ سوچتا سمجھتا ہے۔ اگر دیکھتا ہے تو اس کی صفت ، اگر سنتا ہے تو اس کا کلام، اس کے علم سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کی نعمت سے لطف اٹھاتا ہے۔ اس کے قرب سے سعادت پاتا ہے۔ اس کے وعدہ سے خوش ہوتا ہے، سکون او راطمینان حاصل کرتا ہے۔ اس کی باتوں سےمانوس ہوتا ہے اوراس کے غیر سے نفرت کرتا ہے۔ اس کی یاد میں سرنگوں ہوتا ہے اور جی لگاتا ہے ۔اسی کی ذات پراعتماد اور بھروسہ کرتا ہے۔اس کےنور معرفت سے ہدایت پاتا او راس کا خرقہ و لباس پہنتا ہے۔ اس کے علوم عجیب و نادر پرمطلع ہوتا ہے۔ اس کی قدرت کے اسرار سے مشرف ہوتا ہے اس کی ذات پاک سے سنتا ہے اسے یاد رکھتا ہے۔ پھر ان (نعمتوں) پر حمد و ثنا و شکر و سپاس بجا لاتا ہے۔''

Tuesday, August 11, 2015

Humans are more self-sympathizer & less self-accountable

Self-sympathy is an exaggeratedly negative thought, which overshadows our self-accountability. Self-sympathy spouts victimizational feelings as if an unfair circumstance disrupted our lives away, and expecting condolences of others….with self-sympathy we feel that our situation is worsen than other people’s and we always blame our circumstances for what they are…in short, self-sympathy is amalgamation of eclipsed self-accountability, gravity of an unfair loss and perpetual sadness…
on other side Allah says in Quran,
Indeed a man is witness against himself (about his corruption), whatever the excuses he may fabricate (in denial of his corruption).
(Surah Al-Qiyama : 14, 15)

Wednesday, July 29, 2015

عقل بے مہار

عقل پسند علماء سے کوئی یہ پوچھے ،بھائی ذرا اس آیت کی تفسیر کر دینا۔۔۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
یا پھر اس آیت کی
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآ ئً وَّ الْقَمَرَ نُوْ رً ا
یا پھر اس آیت کی
اَ لَمْ تَرَ وْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰ تٍ طِبَا قًا ہ وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْ رًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَ اجًا ہ
یا پھر اس آیت کی
لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُد ْرِکَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَا بِقُ النَّھَا رِط وَکُلُّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْ نَ ہ
یا پھر اس آیت کی
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِ یْرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیْمِ
۔
کسی نے مستشرقین کی کتابوں سے اُٹھتے ہوئے اعتراضات کا اردو ترجمہ پڑھنا ہو تو اپنے چند عقل پسند علماء کو پڑھ لیا کرے، اس سے آپ کو انداز ہو جائے گا، کہ یہ لوگ مغربی افکار کو اپنانے میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔۔۔ قرآن نہ سائنس سے جدا ہے نہ سائنس قرآن سے جدا ہے، ڈارون نے جن مسلمان سائنسدانوں سے نظریہٗ ارتقاء لیا ان مسلمان سائنسدانوں نے قرآن سے ہی استدلال لیا، وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ، حضرت ابنِ عباسؓ کا یہ قول ہے کہ القرآن یفسرہ الزمان" زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے، آئن سائن نے خدا کے معاملہ میں بڑھی منافقت سے کام لیا مگر ایک بار وہ بھی کہنے پر مجبور ہو گیا کہ
Science without religion is lame, religion without science is blind.
۔
آخر عقل اتنی اہم ہے تو پھر قرآن کیوں نازل ہوا؟ اور اگر قرآن ہی اتنا اہم ہے تو عقل کیوں دی گئی؟ اگر یہ دونوں ہی غیر اہم ہیں تو جزا اور سزا کس بات کی؟ کیا خدا نے قرآن میں یہ نہیں کہہ رہا، کہ یہ کتاب عقل والوں کے لئے ایک مہار ہے؟
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں۔
۔
چند اہلِ لغت علماء حضرات کی بیچارگی کا ہمیں خوب اندازہ ہے، ساری زندگی لغت سے سر نہیں نکالا اور حدیث کو بھی ترک کیا اور سائنس کی کتاب کو بھی کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، اور قرآن کو بس اخلاقیات کی کتاب بنا دیا، اور عقل کو قرآن سے جدا کر دیا۔
اخلاقیات تو بائبل بھی سکھا رہی ہے اور تورات بھی، ایک سے بڑھ کر ایک اخلاق پر مبنی بات ہمیں ان متروک صحیفوں سے مل جاتی ہیں، پھرہم آخر قرآن ہی کیوں پڑھیں، اگر بات صرف اخلاقیات کی ہے؟ اور اگر بات عقلیات کی ہے، تو عقل کی بات افلاطون نے بھی، عقل کی بات سقراط نے بھی کی، عقل کی بات خود وہ عقل پسند علماء حضرات بھی شاد و نادر کر ہی دیتے ہیں، جیسے عقل کی بات بعض اوقات جھل اور بے وقوف بھی کر دیتے ہیں تو کیا ہم انہیں عاقل کا درجہ دے دیں گے؟
۔
ہمارے چند عقل پسند علماء کی چاہت ہے کہ قرآن کو واپس پچھلی صدیوں کو منتقل کر دیا جائے، کیوں کہ اب سائنس اور قرآن کا کوئی مقابلہ نہیں، یہ دونوں کتابیں الگ الگ ہیں، آج کا عقلمند انسان جس کو ہم سائنسدان سمجھتے ہیں وہ تو کہہ رہا ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، مذہب ایک ذہنی بیماری اور ذہنی پسماندگی کا دوسرا نام ہے، اور پیغمبروں نے نہ تو فلکیات کی بات کی اور نہ طییعات کی اور نہ حیاتیات کی، اور نہ ہی ان لوگوں کو ان چیزوں کا ادراک تھا جو آج ایک عقلمند انسان کو ہے، مگر ان لوگوں نے خدا کا اتنا بڑا دعویٰ کیوں نہیں پڑھا،
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
کہ ہم نے ہر زندہ شی کو پانی سے پیدا کیا
۔
ایک نہیں اس طرح کے خدا کے بیسیوں دعوے قرآن میں درج ہیں، اور آخر علمِ فلکیات، طییعات اور حیاتیات کو جاننے والے عقلمند انسان پانی ہی کو کیوں دوسرے سیاروں پر تلاش کر رہے ہیں؟ جو بات سمجھنے کے لئے انسان کو ہزاروں سال لگے وہ بات قرآن نے محض 1400 سال پہلے بتا دی، اور یہ ہمارے چند مٹھی بھرعلمائے سوء، جنہوں نے آج تک سائنس کی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا، انہوں نے ڈارون کے نظریہ کو لادینی ٹھہرایا، حالانکہ ڈارون خود اہلِ کتاب میں سے تھا، جس نے خدا کا انکار نہیں کیا، ان لوگوں کو کیا پتا کہ قرآن اور سائنس ہم معنی ہیں اور جتنی ان دونوں میں مطابقت قائم ہو سکتی ہے وہ کسی اور کتاب میں نہیں، یہ لوگ یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سائنس غلطی نہیں کرتی، بلکہ سائنسدان غلطی کرتا ہیں اور اسی طرح قرآن غلطی نہیں کرتا بلکہ قرآن کو پڑھنے والا اور سمجھنے والا غلطی کرتا ہے،
۔
یہاں ایک سائنسدان کی بات نقل کرنا بہت ضروری ہے، جس نے سائنس کی قرآن سے مطابقت دیکھ کر اسلام قبول کیا، نہ تو وہ شخص کسی مبلغ کی تبلیغ سے متاثر ہوا اور نہ ہی اسلام کے کسی اور اخلاقی پہلو سے، اُس شخص کا کہنا ہے،
Quran contains no statements contradicting established scientific facts. Quran is in agreement with scientific facts, while the Bible is not. In Islam, science and religion have always been “twin sisters”
Prof. Doc. Maurice Bucaille
Book: The Bible, The Qur'an and Science
ایک سائنسدان یہ کہہ رہا ہے، اور ہمارے علمائے سوء تو کچھ اور کہہ رہے ہیں، عقل شتر بے مہار نہیں، عقل کو بھی ہمیشہ ایک مہار کی ضرورت رہتی ہے، جیسا کہ آئن سٹائن نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کہہ ہی دیا۔
Science without religion is lame, religion without science is blind.

Monday, June 8, 2015

ظالم حکمرانوں کی اطاعت یا بغاوت ۔ ۔ ۔احادیث


حدثنا محمد بن المثنى ومحمد بن بشار. قالا: حدثنا محمد بن جعفر. حدثنا شعبة عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وائل الحضرمي، عن أبيه. قال: سأل سلمة بن يزيد الجعفي رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال: يا نبي الله! أرأيت إن قامت علينا أمراء يسألونا حقهم ويمنعونا حقنا، فما تأمرنا؟ فأعرض عنه. ثم سأله فأعرض عنه. ثم سأله في اثانية أو في الثالثة فجذبه الأشعث بن قيس. وقال (اسمعوا وأطيعوا. فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم).



سیدنا سلمہ بن یزید الجعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے پوچھا، "یا نبی اللہ! اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو اپنا حق تو ہم سے وصول کریں لیکن ہمارا حق ہمیں نہ دیں تو آپ اس معاملے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟" آپ نے اس بات پر رخ انور پھیر لیا۔ انہوں نے دوبارہ سوال کیا لیکن آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ اس کے بعد انہوں نے دوسری یا تیسری مرتبہ پھر پوچھا تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے انہیں پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا، "سنو اور اطاعت کرو۔ ان پر ان کے اعمال کی ذمہ داری ہے اور تم پر تمہارے اعمال کی۔"



 (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4782)

حدثني محمد بن المثنى. حدثنا أبو الوليد بن مسلم. حدثنا عبدالرحمن بن يزيد بن جابر. حدثني بسر بن عبيدالله الحضرمي؛ أنه سمع أبا إدريس الخولاني يقول: سمعت حذيفة بن اليمان يقول: كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير. وكنت أسأله عن الشر. مخافة أن يدركني. فقلت: يا رسول الله! إنا كنا في جاهلية وشر. فجاءنا الله بهذا الخير. فهل بعد هذا الخير شر؟ قال (نعم) فقلت: هل بعد ذلك الشر من خير؟ قال (نعم. وفيه دخن). قلت: وما دخنه؟ قال (قوم يستنون بغير سنتي. ويهدون بغير هديي. عرف منهم وتنكر). فقلت: هل بعد ذلك الخير من شر؟ قال (نعم. دعاة على أبواب جهنم. من أجابهم إليها قذفوه فيها). فقلت: يا رسول الله! صفهم لنا. قال (نعم. قوم من جلدتنا. ويتكلمون بألسنتنا) قلت: يا رسول الله! فما ترى إن أدركني ذلك! قال (تلزم جماعة المسلمين وإمامهم) فقلت: فإن لم تكن لهم جماعة ولا إمام؟ قال (فاعتزل تلك الفرق كلها. ولو أن تعض على أصل شجرة. حتى يدركك الموت، وأنت على ذلك).



سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "لوگ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے خیر سے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ سے شر کے متعلق ہی سوال کیا کرتا تھا تاکہ میں برائی میں نہ پڑ جاؤں۔ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! ہم لوگ جاہلیت اور برائی میں تھے۔ اس کے بعد اللہ نے ہمیں بھلائی میں داخل کیا۔ کیا اس کے بعد پھر برائی ہوگی؟ آپ نے فرمایا، "ہاں"۔ میں نے عرض کیا، "کیا اس کے بعد پھر بھلائی آئے گی؟" آپ نے فرمایا، "ہاں، لیکن اس میں کچھ دھواں سا ہو گا۔" میں نے عرض کیا، "وہ دھواں سا کیا ہوگا؟
آپ نے فرمایا، "ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت پر نہیں چلیں گے اور میری ہدایت کے مطابق عمل نہیں کریں گے۔ ان میں اچھی باتیں بھی ہوں گی اور برائی بھی ہو گی۔" میں نے عرض کیا، "کیا اس خیر کے بعد پھر برائی پیدا ہو جائے گی؟" فرمایا، "ہاں۔ لوگ جہنم کے دروازوں کی طرف بلائیں گے اور جو ان کی بات مان لے گا، اسے جہنم تک پہنچا کر دم لیں گے۔" عرض کیا، "ان کی کچھ مزید خصوصیات بیان فرمائیے۔" فرمایا، "ان کی شکل و صورت ہماری جیسی ہی ہوگی اور وہ ہماری زبان ہی بولیں گے۔"
میں نے عرض کیا، "اگر میرا واسطہ ان لوگوں سے پڑ جائے تو میں کیا کروں؟" فرمایا، "مسلمانوں کی جماعت (حکومت) اور ان کے حکمران کی پیروی کرو۔" عرض کیا، "اگر حکومت اور حکمران ہی نہ رہیں (یعنی انارکی پیدا ہو جائے)۔" فرمایا، "ہر فرقے سے الگ ہو کر رہو خواہ اس کے لئے تمہیں درختوں کی جڑیں ہی کیوں نہ چبانی پڑیں۔ اور مرتے دم تک ایسا ہی کرو (یعنی ہر صورت فتنہ و فساد اور انارکی سے دور رہو۔)"
اسی حدیث کی دوسری روایت میں بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔



(مسلم، كتاب الامارة، حديث 4784)






وحدثني محمد بن سهل بن عسكر التميمي. حدثنا يحيى بن حسان. ح وحدثنا عبدالله بن عبدالرحمن الدارمي. أخبرنا يحيى (وهو ابن حسان). حدثنا معاوية (يعني ابن سلام). حدثنا زيد بن سلام عن أبي سلام. قال: قال حذيفة بن اليمان: قلت: يا رسول الله! إنا كنا بشر. فجاء الله بخير. فنحن فيه. فهل من وراء هذا الخير شر؟ قال (نعم) قلت: هل من وراء ذلك الشر خير؟ قال (نعم) قلت: فهل من وراء ذلك الخير شر؟ قال (نعم) قلت: كيف؟ قال (يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي، ولا يستنون بسنتي. وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس) قال قلت: كيف أصنع؟ يا رسول الله! إن أدركت ذلك؟ قال (تسمع وتطيع للأمير. وإن ضرب ظهركوأخذ مالك. فاسمع وأطع).






سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! ہم لوگ غافل تھے، پھر اللہ نے ہمیں خیر عطا فرمائی۔ اب ہم خیر کی حالت میں ہیں۔ کیا اس خیر کے بعد برائی بھی ہے؟" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "کیا اس برائی کے بعد پھر خیر ہو گا۔" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "پھر اس خیر کے بعد برائی ہوگی؟" فرمایا، "ہاں۔" عرض کیا، "وہ کیسی ہوگی؟" فرمایا، "میرے بعد ایسے حکمران پیدا ہوں گے جو میری ہدایت کی پیروی نہ کریں گے۔ وہ میری سنت پر عمل نہ کریں گے۔ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کے جسم انسانوں کے اور دل شیطانوں کے ہوں گے۔" میں نے عرض کیا، "یا رسول اللہ! اگر میرا سامنا ان سے ہو جائے تو اس وقت میں کیا کروں؟" فرمایا، "حکمران کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اگرچہ وہ تمہاری کمر پر کوڑے بھی لگائے۔"



(مسلم، كتاب الامارة، حديث 4785)



وحدثنا شيبان بن فروخ. حدثنا عبدالوارث. حدثنا الجعد. حدثنا أبو رجاء العطاردي عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال (من كره من أميره شيئا فليصبر عليه. فإنه ليس أحد من الناس خرج من السلطان شبرا، فمات عليه، إلا مات ميتة جاهلية).



سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، "جسے اپنے حکمران کی کوئی بات ناگوار گزرے، وہ اس پر صبر کرے (یعنی بغاوت نہ کرے۔) جو شخص بھی حکمران کی اطاعت سے بالشت بھر بھی نکلے گا، وہ جاھلیت کی موت مرے گا۔"
(مسلم، كتاب الامارة، حديث 4791)



حکومت کی اطاعت اس کی غلامی کا نام نہیں ہے۔ ان احدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ حکومت کی برائیوں پر لوگ دم سادھ کر بیٹھے رہیں بلکہ ان برائیوں کو برائی سمجھنا اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کے خلاف آواز اٹھانا نیک لوگوں کی ذمہ داری ہے۔


حدثنا داود بن رشيد. حدثنا الوليد (يعني ابن مسلم). حدثنا عبدالرحمن بن يزيد بن جابر. أخبرني مولى بني فزازة (وهو زريق بن حيان)؛ أنه سمع مسلم بن قرظة، ابن عم عوف بن مالك الأشجعي، يقول: سمعت عوف بن مالك الأشجعي يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول (خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم. وتصلون عليهم ويصلون عليكم. وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم. وتلعنونهم ويلعنونكم) قالوا قلنا: يا رسول الله! أفلا ننابذهم عند ذلك؟ قال (لا. ما أقاموا فيكم الصلاة. لا ما أقاموا فيكم الصلاة. ألا من ولى عليه وال، فرآه يأتي شيئا من معصية الله، فليكره ما يأتي من معصية الله، ولا ينزعن يدا من طاعة).
 (مسلم، كتاب الامارة، حديث 4805)
سیدنا عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کو فرماتے سنا، "تمہارے بہترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں۔ تم ان کے لئے دعا کرو اور وہ تمہارے لئے دعا کریں۔ تمہارے بدترین حکمران وہ ہوں گے جن سے تم نفرت کرو اور وہ تم سے نفرت کریں۔ تم ان پر لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ ہم نے عرض کیا، "ہم ایسے حکمرانوں کے خلاف بغاوت نہ کر دیں۔" فرمایا، "نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں، جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ لیکن جب تم اپنے حکمرانوں میں اللہ تعالی کی کوئی نافرمانی ہوتی دیکھو تو اسے برائی ہی سمجھتے رہو البتہ اس کی اطاعت سے ہاتھ مت کھینچو (کیونکہ اس سے پہلے سے زیادہ بڑی برائی یعنی انارکی جنم لے گی۔)

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی اﷲ عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَنْ تَنَالَهُمَا شَفَاعَتِي : إِمَامٌ ظلُوْمٌ وَکُلُّ غَالٍ مَارِقٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْکَبِيْرِ وَالْأَوْسَطِ. وَقَالَ الْمُنْذَرِيُّ وَالْهَيْثَمِيُّ : رِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت کے دو قسم کے لوگوں کو ہرگز میری شفاعت حاصل نہیں ہوگی : ظالم حکمران اور دین کی حدوں سے نکلنے والا ہر شخص۔‘‘



اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام منذری اور ہیثمی نے کہا ہے : اس حدیث کے رُواۃ ثقہ ہیں.

Quran & Bible -- Pharaoh & Professor Bucaille


Ramesses II is one of the more popular candidates for the Pharaoh of the Exodus mentioned in Quran & Bible both. His body was discovered in 1881 among a group of royal mummies that had been removed from their original tombs for fear of theft. Priests of the 21st Dynasty had reburied them in a cache at Deir al-Bahari on Luxor’s west bank.
.
Ramesses II was originally buried in the tomb KV7 in the Valley of the Kings but, because of looting, priests later transferred the body to a holding area, re-wrapped it, and placed it inside the tomb of queen Inhapy. Seventy-two hours later it was again moved, to the tomb of the high priest Pinudjem II. All of this is recorded in hieroglyphics on the linen covering the body. His mummy is today in Cairo's Egyptian Museum.
.
False and fictitious propaganda against Islam and its Prophet, by the Christian clergy and by biased Orientalists who misguided class of people could not believe that Quran was the only Scripture which had remained sacrosanct and free from all additions, alterations and interpolations and consequently, it still retained the purity to guide mankind in all ages, places and in every conceivable crisis.
.
When Francisco Mitra became the president of France in 1981, France requested the Egyptian government to host the mummy of Pharaoh for the purpose of running laboratory and archaeological examinations. Upon arrival royal attendants were there including the French president himself and all ministers who bowed in honor for the mummy.
.
The scientists were headed by Professor Maurice Bucaille. Scientists were trying to restore the mummy while Professor Maurice was mainly concerned with how did this mummy die! The final report of the scientists was released late at night which states that the remaining salt in the mummy is an overt evidence that it was drawn in the sea, and the body was rescued very shortly where it was immediately embalmed to be saved An amazing thing was still confusing Professor Maurice is that how could this body possibly be safer than any other mummy despite being taken out of the sea up until this time. Professor Maurice was writing his final report on what he thought would be a new discovery about saving Pharaoh's body immediately after his death and embalming it And there, someone whispered to him that Muslims claim to know something about the drowning of this mummy. Yet the Professor firmly denied such thing saying that it's impossible to discover this without the development of science and without using his high-tech and complicated laboratories and computers.
.
To his surprise, he was told that Muslims believe in a book called "Quran" and this Quran narrates the story of Pharaoh's drowning and ensures the safety of his body after his death as to be a Sign to mankind. The Professor couldn't believe his own ears and started to wonder: How can a book existed 1400 years ago speak about the mummy that was only found 200 years ago, in 1898?? How can that be possible while the ancient Egyptian heritage was discovered only a few decades ago and no one knew about it before?? The Professor sat down pondering on what he was told about the book of Muslims while his Holy Book narrates only the drowning of Pharaoh without saying anything about his body
"Is it possible that this mummy in front of me is the one who was chasing Moses??!!" "Is it possible that Muhammad knew this 1400 years ago??!!"
.
The Professor couldn't sleep that night till they brought him the Old Testament where he read: "the sea drowned Pharaoh and his army, no one else was left alive" He was surprised that the Holy Book didn't mention about the destiny of the body and that it will be saved When the scientists were done with the mummy, France retuned it to Egypt, but Professor Maurice couldn't rest for a moment since he was told that Muslims know about the safety of the body. So, he decided to travel and meet anatomy Muslim scientists and there he spoke about his discovery of the safety of the mummy after its death in the sea and so on.
.
One of the Muslim scientists stood up and simply opened the Quran and pointed to the Professor at one verse:
فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ
We shall preserve your body today that you may be a lesson for those who come after you; as most people neglect Our signs.
(Quran 10:92).
.
The Professor was struck when he read that and immediately stood in front of the crowd and said loudly: "I believe in Islam, I believe in Quran" Then he went back to France with a different face he traveled with and dedicated 10 years investigating the scientific discoveries and comparing them with the Quran and trying to come up with one scientific contradiction with the Quran. Finally he quoted one verse from the Quran to be his conclusion:
لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ
"No falsehood can approach it (this book) from before or behind it: it is sent down by One Full of Wisdom, Worthy of all praise"
(Quran 41:42)
.
In 1976, Bucaille published his book, The Bible, The Qur'an and Science which argued that the Quran contains no statements contradicting established scientific facts. Bucaille argued that the Quran is in agreement with scientific facts, while the Bible is not. He states that in Islam, science and religion have always been "twin sisters". According to Bucaille, there are monumental errors of science in the Bible and not a single error in the Quran. Bucaille's belief is that the Quran's descriptions of natural phenomena make it compatible with modern science. Bucaille concludes that the Quran is the Word of God. Bucaille argues that some of the most celebrated scientific discoveries in the 20th century, were described in detail and accuracy. Bucaille gives examples of astronomy, embryology, and multiple other subjects that had major advances in the 20th century.
.
"Bucailleism" is a term used for the movement to relate modern science with religion, and especially that of Islam. Since the publishing of The Bible, the Quran and Science, Bucaillists have promoted the idea that the Quran is of divine origin, arguing that it contains scientifically correct facts.
.
According to The Wall Street Journal, Bucailleism is "in some ways the Muslim counterpart to Christian creationism" although "while creationism rejects much of modern science, Bucailleism embraces it". It described Bucailleism as being "disdained by most mainstream scholars" but said it has fostered pride in Muslim heritage and played an important role in attracting converts.
.
The Quran and the Bible [Exodus 14:21-30 and Exodus 15:19-21] state that the Pharaoh was drowned in the sea. However, the Qur’an differs from the Bible and it makes a very unique statement that the body of the drowned Pharaoh was saved as a sign for future generations. The Quranic statement about rescuing Pharaoh’s body would be in total agreement with the fact that the body of Rameses II has survived in a mummified form.