Wednesday, January 18, 2017
Thursday, September 17, 2015
حج کی اصل مقصدیت
حج کے لغوی معنی ہیں کہ کسی جگہ کی زیارت کیلئے قصد کرنا، یا عظمت والی جگہ کا ارادہ کرنا۔۔۔ شریعت میں حج کے معنی مخصوص مقامات کا مخصوص فعل کے ساتھ مخصوص زمانے میں ارادہ کرنا۔
اور مکہ کا مادہ "مک" ہے جس کے معنی جذب کرنا ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ مکہ ہر سرزمین و دیار سے لوگ کھینچ لاتا ہے ۔ مکہ کا ایک مادہ "مکک"جس کے معنی ہلاک ہونا اور کم ہوجانا ہےچونکہ مکہ یعنی وہ مقام ہے جس کی طرف کوئی بھی ظالم بد نیتی سے دیکھے گا اس کا انجام ہلاکت اور نابودی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
قرآن و حدیث میں حج کی فرضیت اور اہمیت بڑے واضع الفاظ میں ہے، حج کا طریقہ ، ایام، افعال ہر خاص وعام پر عیاں ہیں، اور مکہ کی فضلیت پر خود قرآن گواہ ہے،
إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ
(یقینا سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیےمرکز ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے)
اور پھر خدا نے خود اِس شہر کی قسم کھائی ،
لَآ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ
میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں
خدا نے اس شہر کو "اُم القری"یعنی تمام قصبوں کی ماں کہا،عربی میں اُم کا ایک معنی جَڑ بھی ہے، خدا نے مکہ کو "اُم القری" کہہ کر اسے تمام آبادیوں کی جڑ ٹھہرا دیا، خدا نے مکہ شہر کو "بلد الحرام" کہا، یعنی وہ شہر جہاں ہر طرح کا حکم ماسوائے خدا کے حکم کے حرام ہے ، خدا نے مکہ شہر کو "بلد الامین" یعنی امن والا شہر کہا۔ خدا نے مکہ شہر کو " مثابۃللناس "کہا یعنی لوگوں کی بار بار پلٹنے اور لوٹنے کی جگہ۔ خدا نے مکہ شہر کو " وضع للناس " کہا، یعنی تمام لوگوں کے مقررہ جگہ جس پر انہیں اکٹھا کیا جائے، الغرض خدا نے شہر مکہ کو مرکز بنا کر حج کو اسلام کا اہم رُکن بنا دیا تانکہ مسلمانوں میں اس حج کے توسُّط سے اس شہر کی مرکزیت کو برقرار رکھا جائے۔ اسی لئے مکہ کے تمام کے تمام نام دنیائے اسلام میں اُس کے مرکز ہونے کی واضع دلیل ہے۔
۔
ہم صرف حج کرنے والوں کو ایام ِ حج میں داخل اور حج سے مستفید سمجھتے ہیں،اور خودکو ہم ایامِ حج سے مبرا سمجھتے ہیں، ، یہ ہماری اپنی کم عقلی اور کم علمی ہے کہ جو ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ حج کرنے والے ہی ان خاص ایام سے بہرہ مند ہیں، مگر خدا کو اُس شخص کا بھی خیال ہےجو حج تو کرنا چاہ رہا ہے مگر حج کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ جیسا کہ خدا نے ان ایامِ حج کی قسم کھائی ہے، جس طرح اُس نے اپنے شہر مکہ کی قسم کھائی،
وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ
مجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔
ہم لوگ اپنی قَسم پوری کریں نہ کریں مگر خدا اپنی قَسم پوری کرنا جانتا ہے،ان ایام کی قَسم کھانے کا مقصد ہر خاص و عام پر اپنی رحمت کو نچھاورکر نا ہے ، یہ کیسے ممکن ہے، کہ کسی چیز کے مرکز میں ہنگامہ بپا ہو اور اُس مرکز سے متصل لوگ اُس ہنگامہ سے محفوظ رہیں؟ یا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مرکزیت والا انعام و اکرام سے بہرہ مند ہوں اور اُس مرکزیت سے متصل سے اُن انعامات سے بے بہرہ رہیں ؟ ہاں یہ انسان کا قانون تو ہو سکتا ہے، مگر خدا کا قانون نہیں، جب بارانِ رحمت برستی ہے تو اُس کی رحمت سے ہر اچھے بُرے، خاص و عام پر برستی ہے،ان ایام میں بارانِ رحمت صرف مرکز (مکہ) میں نہیں بلکہ مرکز سے متصل ہر شخص پر برستی ہے،
ہر سال حج مقرر کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں، ان سب وجوہات میں سب سے بڑی اور اہم وجہ اسلام کی مرکزیت کو قائم رکھنا ہیں، یک لباس ، یک الفاظ کے ساتھ ایک خدا کے حضور پیش ہو کر اسکی کبریت کا اعتراف کرنا ہے،اُس مرکز کی رُکنیت والوں کا اپنی استطاعت کے مطابق وہاں اپنی موجودگی اور حاضری دینا ہے ، اور جو استطاعت نہیں رکھتے اُن کی رُکنیت و شمولیت کی بھی حاضری اور گواہی دینا ہے ، حج مقرر کرنے کی اصل مقصدیت یہی ہے۔
بلکہ بات صرف حج کی نہیں ہے، بات ذوالحجہ کے ان دس اور اہم ایام کی ہے، اگر ان ایام میں مرکز (مکہ) میں مقررہ عبادت ہے تو اُس مرکزیت سے متصل ہم سب لوگوں کو بھی عبادات میں مشغول رہنے کو کہا گیا ہے،یہ بات ہمارے لئے حُکماً نہیں بلکہ ہمارے لئے تعزیماً ہے ، فرمانِ رسول ﷺ ہے،
مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ اْلأيَّامِ الْعَشْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وََلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: وََلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إَِلا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ.
ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی ( اسے نہیں پا سکتا ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد بھی نہیں ، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں “
صحيح / صحيح سنن الترمذي، (757)؛ صحيح سنن أبي داود، (2438)؛ صحيح سنن ابن ماجه (1753). صحیح بخاری ( 2 / 457 )
۔
اگر مرکزیت والے بال اور ناخن نہیں کٹائیں گے تو مرکز سے متصل ہم سب لوگ اُسی پروٹوکول کو اپنائے گے، یہ سب باتیں حُکماً نہیں بلکہ تعزیماً ہیں، قولِ رسول ﷺ ہے،
إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ ، فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا. قِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ بَعْضَهُمْ لاَ يَرْفَعُهُ ، قَالَ: لَكِنِّي أَرْفَعُهُ
جب (ذوالحجہ ) کا عشرہ شروع ہوجائے اور تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو بالکل نہ کاٹے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: جب تم ذو الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی آدمی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو روکے رکھے۔
صحيح مسلم، (5119)، (5118)
۔
اگر مرکزیت سے لبيك اللهم لبيك .لبيك لا شريك لك لبيك سے پکاریں جاری ہوں گی تو مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگوں کے لئے بھی قولِ رسولﷺ ہے کہ
" اللہ تعالى كے ہاں ان دس دنوں سے عظيم كوئى دن نہيں اور ان دس ايام ميں كئے جانے والے اعمال سے زيادہ كوئي عمل محبوب نہيں، لہذ اتم لاالہ الا اللہ، اور سبحان اللہ ، اور تكبيريں كثرت سے پڑھا كرو"
اسے امام احمد نے روايت كيا ہے اور اس كي سند كو احمد شاكر رحمہ اللہ نے صحيح قرار ديا ہے:
مسندامام احمد بن حنبل( 7/ 224 ) .
۔
اگر مرکز والوں (مکہ میں حج کرنے والوں) کے گناہوں کی بخشش ہے جیسا کہ قولِ رسول ﷺ ہے کہ
"جس شخص نے الله کے لیے حج کیا، (اس دوران میں) کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا"۔
(صحیح البخاری، الحج، حدیث: 1521)
۔
تو اُس مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگوں کے لئے بھی قولِ رسول ﷺ ہے،
جس نے یوم التراویہ (آٹھویں ذوالحجہ) کا روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس کے ایک سال کے پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ معاف کردے گا‘‘۔
(ترمذی، الجامع الصحیح، ابواب الصیام، 5 : 407، رقم : 728)
یومِ عرفہ صرف عرفات میں اللہ کے کئے جمع ہونے والوں کے مخصوص نہیں بلکہ یومِ عرفہ تو اس اُمت کے ہر خاص و عام کے مخصوص ہے، قولِ رسول ﷺ ہے، کہ
کوئی دن ایسا نہیں کہ جس دن یوم عرفہ سے زیادہ لوگوں کو دوزخ سے نجات دی جاتی ہو"۔
(صحیح مسلم)
۔
اسی طرح یومِ نحر صرف مرکز والوں کے مخصوص نہیں بلکہ یومِ نحر اس اُمت کے ہر صاحبِ استطاعت کے مخصوص ہے، اگر مرکز (مکہ) والے قربانی کا جانور دیں گے اورتو اپنے مرکز(مکہ) سے متصل ہم سب لوگ بھی قربانی کا جانور دیں گے، یہ قربانی بھی ہماری طرف سے گواہی ہے کہ ہم بھی اُس مرکز(مکہ) کی رُکنیت میں شامل ہیں،
حج کی مقصدیت، مرکزیت کو قائم کرنے کے علاوہ، اراکینِ مرکز کی رُکنیت کو بحال بھی رکھنا ہوتا ہے، اور بیت اللہ ہم سب مسلمانوں کا مرکز ہے ، اُس مرکز کی رُکنیت میں ہم سب ارکینِ مرکز شاملِ حال ہیں ، جو بیت اللہ کی طرف منہ کر پانچ وقت نماز پڑھتے ہیں وہ تمام اراکینِ مرکزاپنے مرکز بیت اللہ پر مرکوز اور اُس مرکز سے متصل ہیں۔ تمام ارکینِ مرکز کا اس مرکز پر اتنا ہی حق ہے جتنا اُس میں رہنے والوں کا حق ہے،
قرآن میں خدا تعالٰی کا ارشادِ گرامی ہے کہ
وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ
مسجد حرام جسے ہم نے سب لوگو ں کے لیے بنایا ہے وہاں کا رہنے والا اور باہروالادونوں( اِس گھر کی ملکیت اور رُکنیت میں) برابر برابر ہیں۔
﴿سورہ الحج: ٢٥﴾
۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
Friday, September 11, 2015
An amazing advice by the great scholar, Ibn Al-Qayyim:
"A friend will not (literally) share your struggles, and a loved one cannot physically take away your pain, and a close one will not stay up the night on your behalf...so look after your self, protect it, nurture it... and don't give life's events more than what they are really worth... Be certain that when you break no one will heal you except you, and when you are defeated no one will give you victory except your determination... your ability to stand up again and carry on is your responsibility... Do not look for your self worth in the eyes of people; look for your worth from within your conscience ... if your conscience is at peace then you will ascend high... and if you truly know yourself then what is said about you won't harm you.
Do not carry the worries of this life... because this is for Allah... and do not carry the worries of sustenance because it is from Allah... and do not carry the anxiety for the future because it is in the Hands of Allah...
Carry one thing: How to Please Allah. Because if you please Him, He Pleases you, fulfills you and enriches you. Do not weep from a life that made your heart weep... just say "oh Allah... compensate me with good in this life and the hereafter".
Sadness departs with a sajdah... happiness comes with a sincere du'a... Allah Does Not forget the good you do...nor Does He Forget the good you did to others and the pain you relieved them from... Nor Will He Forget the eye which was about to cry but you made it laugh...
Live your life with this principle: Be good even if you don't receive good... not because of other's sake but because Allah Loves the good doers".
Tuesday, September 1, 2015
Dost
Kahoon dost se dost ki baat kya kya
Rahi dushmanon se mulaaqaat kya kya
What wondrous secrets should I speak of to the Friend who lives in His friend’s heart?
What moment was spent in the thought of anything but Him?
Wuh ‘ishwe wuh ghamze
wuh naghme wuh jalwe
Talab kar rahe ham- aafaat kya kya
Those heart-stopping glances, those mischievous graces
That rapturous music, that dazzling unveiling
What wondrous calamities we are seeking!
Jahaan mujh ko aaya khayaal aa gaye wuh
Dikhaayi hain dil ne karaamaat kya kya
As soon as His thought appeared, He appeared in my heart
what wondrous miracles the heart has accomplished!
Nah thi guftugu darmiyaan phir bhi un se
Pas-i parda-i dil hui baat kya kya
Though nothing was said to Him face to face
What wondrous conversation occurred behind the curtain of the heart!
Kahoon dost se dost ki baat kya kya
What wondrous secrets should I speak of to the Friend who lives in His friend’s heart?
Saturday, August 29, 2015
معرفت کا سفر
از شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانیؒ
▬▬▬▬▬▬▬▬
''جب بندہ کسی بلا یا مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پہلے خود اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر نجات نہیں پاتا تو مخلوقات میں اوروں سےمدد مانگنا ہے مثلاً بادشاہوں یا حاکموں یا دنیاداروں یا امیروں سے اور دکھ درد میں طبیبوں سے۔ جب ان سے بھی کام نہیں نکلتا۔اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دعا و گریہ زاری و حمد و ثنا کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔ پھر جب خدا کی طرف سے بھی مدد نظر نہیں آتی تو (بے بس ہوکر) خدا کا ہی ہورہتا ہے۔ ہمیشہ سوال و دعا ، اور گریہ زاری اور ستائش و اظہار حاجتمندی رجاء و خوف کے ساتھ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو دعا سے تھکا دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ تمام اسباب علیٰحدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اس میں قضا و قدر کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے اندر کام کرتا ہے تب بندہ کل اسباب و حرکات سے بے پروا ہوجاتا ہے اور روح صرف رہ جاتی ہے۔ اسے فعل حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ ضرور بالضرور صاحب یقین موحد ہوتا ہے۔ قطعی طور پر جانتا ہے کہ درحقیقت خدا کے سوا نہ کوئی کچھ کرنے والا ہے ، نہ حرکت و سکون دینے والا ہے۔ نہ اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں اچھائی ، بُرائی،نفع و نقصان، بخشش و حرمان، کشائش و بندش ، موت و زندگی، عزت وذلت،غناو فقر۔
۔
یوں تقدیر کے اترتے وقت بندہ کی ایسی حالت ہوتی ہے، جیسے شیرخوار بچہ دایا کی ہاتھ میں یا مردہ غُسّال کے ہاتھ میں یا (پولو کی) گیند(چگان)یعنی سوار کے ہاتھ میں، اور انہیں بار بار الٹا یا پلٹا یا جاتا ہے اور انہیں ایک علیحدہ اپنی صورت دے دی جاتی ہے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی حرکت نہیں نہ اپنے لیے نہ کسی او رکے لیے ،یعنی بندہ اپنے مالک کے فعل میں اپنے نفس میں غائب ہوجاتا ہے او راپنے مالک او راس کے فعل کے سوا نہ کچھ دیکھتا سنتا ہے، نہ کچھ سوچتا سمجھتا ہے۔ اگر دیکھتا ہے تو اس کی صفت ، اگر سنتا ہے تو اس کا کلام، اس کے علم سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کی نعمت سے لطف اٹھاتا ہے۔ اس کے قرب سے سعادت پاتا ہے۔ اس کے وعدہ سے خوش ہوتا ہے، سکون او راطمینان حاصل کرتا ہے۔ اس کی باتوں سےمانوس ہوتا ہے اوراس کے غیر سے نفرت کرتا ہے۔ اس کی یاد میں سرنگوں ہوتا ہے اور جی لگاتا ہے ۔اسی کی ذات پراعتماد اور بھروسہ کرتا ہے۔اس کےنور معرفت سے ہدایت پاتا او راس کا خرقہ و لباس پہنتا ہے۔ اس کے علوم عجیب و نادر پرمطلع ہوتا ہے۔ اس کی قدرت کے اسرار سے مشرف ہوتا ہے اس کی ذات پاک سے سنتا ہے اسے یاد رکھتا ہے۔ پھر ان (نعمتوں) پر حمد و ثنا و شکر و سپاس بجا لاتا ہے۔''
▬▬▬▬▬▬▬▬
''جب بندہ کسی بلا یا مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پہلے خود اس سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر نجات نہیں پاتا تو مخلوقات میں اوروں سےمدد مانگنا ہے مثلاً بادشاہوں یا حاکموں یا دنیاداروں یا امیروں سے اور دکھ درد میں طبیبوں سے۔ جب ان سے بھی کام نہیں نکلتا۔اس وقت اپنے پروردگار کی طرف دعا و گریہ زاری و حمد و ثنا کے ساتھ رجوع کرتا ہے۔ پھر جب خدا کی طرف سے بھی مدد نظر نہیں آتی تو (بے بس ہوکر) خدا کا ہی ہورہتا ہے۔ ہمیشہ سوال و دعا ، اور گریہ زاری اور ستائش و اظہار حاجتمندی رجاء و خوف کے ساتھ کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو دعا سے تھکا دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ تمام اسباب علیٰحدہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت اس میں قضا و قدر کا نفاذ ہوتا ہے اور اس کے اندر کام کرتا ہے تب بندہ کل اسباب و حرکات سے بے پروا ہوجاتا ہے اور روح صرف رہ جاتی ہے۔ اسے فعل حق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور وہ ضرور بالضرور صاحب یقین موحد ہوتا ہے۔ قطعی طور پر جانتا ہے کہ درحقیقت خدا کے سوا نہ کوئی کچھ کرنے والا ہے ، نہ حرکت و سکون دینے والا ہے۔ نہ اس کے سوا کسی کے ہاتھ میں اچھائی ، بُرائی،نفع و نقصان، بخشش و حرمان، کشائش و بندش ، موت و زندگی، عزت وذلت،غناو فقر۔
۔
یوں تقدیر کے اترتے وقت بندہ کی ایسی حالت ہوتی ہے، جیسے شیرخوار بچہ دایا کی ہاتھ میں یا مردہ غُسّال کے ہاتھ میں یا (پولو کی) گیند(چگان)یعنی سوار کے ہاتھ میں، اور انہیں بار بار الٹا یا پلٹا یا جاتا ہے اور انہیں ایک علیحدہ اپنی صورت دے دی جاتی ہے۔ اس میں اپنی طرف سے کوئی حرکت نہیں نہ اپنے لیے نہ کسی او رکے لیے ،یعنی بندہ اپنے مالک کے فعل میں اپنے نفس میں غائب ہوجاتا ہے او راپنے مالک او راس کے فعل کے سوا نہ کچھ دیکھتا سنتا ہے، نہ کچھ سوچتا سمجھتا ہے۔ اگر دیکھتا ہے تو اس کی صفت ، اگر سنتا ہے تو اس کا کلام، اس کے علم سے ہر چیز کو جانتا ہے۔ اس کی نعمت سے لطف اٹھاتا ہے۔ اس کے قرب سے سعادت پاتا ہے۔ اس کے وعدہ سے خوش ہوتا ہے، سکون او راطمینان حاصل کرتا ہے۔ اس کی باتوں سےمانوس ہوتا ہے اوراس کے غیر سے نفرت کرتا ہے۔ اس کی یاد میں سرنگوں ہوتا ہے اور جی لگاتا ہے ۔اسی کی ذات پراعتماد اور بھروسہ کرتا ہے۔اس کےنور معرفت سے ہدایت پاتا او راس کا خرقہ و لباس پہنتا ہے۔ اس کے علوم عجیب و نادر پرمطلع ہوتا ہے۔ اس کی قدرت کے اسرار سے مشرف ہوتا ہے اس کی ذات پاک سے سنتا ہے اسے یاد رکھتا ہے۔ پھر ان (نعمتوں) پر حمد و ثنا و شکر و سپاس بجا لاتا ہے۔''
Tuesday, August 11, 2015
Humans are more self-sympathizer & less self-accountable
Self-sympathy is an exaggeratedly negative thought, which overshadows our self-accountability. Self-sympathy spouts victimizational feelings as if an unfair circumstance disrupted our lives away, and expecting condolences of others….with self-sympathy we feel that our situation is worsen than other people’s and we always blame our circumstances for what they are…in short, self-sympathy is amalgamation of eclipsed self-accountability, gravity of an unfair loss and perpetual sadness…
on other side Allah says in Quran,
Indeed a man is witness against himself (about his corruption), whatever the excuses he may fabricate (in denial of his corruption).
(Surah Al-Qiyama : 14, 15)
on other side Allah says in Quran,
Indeed a man is witness against himself (about his corruption), whatever the excuses he may fabricate (in denial of his corruption).
(Surah Al-Qiyama : 14, 15)
Wednesday, July 29, 2015
عقل بے مہار
عقل پسند علماء سے کوئی یہ پوچھے ،بھائی ذرا اس آیت کی تفسیر کر دینا۔۔۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
یا پھر اس آیت کی
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآ ئً وَّ الْقَمَرَ نُوْ رً ا
یا پھر اس آیت کی
اَ لَمْ تَرَ وْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰ تٍ طِبَا قًا ہ وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْ رًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَ اجًا ہ
یا پھر اس آیت کی
لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُد ْرِکَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَا بِقُ النَّھَا رِط وَکُلُّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْ نَ ہ
یا پھر اس آیت کی
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِ یْرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیْمِ
۔
کسی نے مستشرقین کی کتابوں سے اُٹھتے ہوئے اعتراضات کا اردو ترجمہ پڑھنا ہو تو اپنے چند عقل پسند علماء کو پڑھ لیا کرے، اس سے آپ کو انداز ہو جائے گا، کہ یہ لوگ مغربی افکار کو اپنانے میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔۔۔ قرآن نہ سائنس سے جدا ہے نہ سائنس قرآن سے جدا ہے، ڈارون نے جن مسلمان سائنسدانوں سے نظریہٗ ارتقاء لیا ان مسلمان سائنسدانوں نے قرآن سے ہی استدلال لیا، وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ، حضرت ابنِ عباسؓ کا یہ قول ہے کہ القرآن یفسرہ الزمان" زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے، آئن سائن نے خدا کے معاملہ میں بڑھی منافقت سے کام لیا مگر ایک بار وہ بھی کہنے پر مجبور ہو گیا کہ
Science without religion is lame, religion without science is blind.
۔
آخر عقل اتنی اہم ہے تو پھر قرآن کیوں نازل ہوا؟ اور اگر قرآن ہی اتنا اہم ہے تو عقل کیوں دی گئی؟ اگر یہ دونوں ہی غیر اہم ہیں تو جزا اور سزا کس بات کی؟ کیا خدا نے قرآن میں یہ نہیں کہہ رہا، کہ یہ کتاب عقل والوں کے لئے ایک مہار ہے؟
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں۔
۔
چند اہلِ لغت علماء حضرات کی بیچارگی کا ہمیں خوب اندازہ ہے، ساری زندگی لغت سے سر نہیں نکالا اور حدیث کو بھی ترک کیا اور سائنس کی کتاب کو بھی کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، اور قرآن کو بس اخلاقیات کی کتاب بنا دیا، اور عقل کو قرآن سے جدا کر دیا۔
اخلاقیات تو بائبل بھی سکھا رہی ہے اور تورات بھی، ایک سے بڑھ کر ایک اخلاق پر مبنی بات ہمیں ان متروک صحیفوں سے مل جاتی ہیں، پھرہم آخر قرآن ہی کیوں پڑھیں، اگر بات صرف اخلاقیات کی ہے؟ اور اگر بات عقلیات کی ہے، تو عقل کی بات افلاطون نے بھی، عقل کی بات سقراط نے بھی کی، عقل کی بات خود وہ عقل پسند علماء حضرات بھی شاد و نادر کر ہی دیتے ہیں، جیسے عقل کی بات بعض اوقات جھل اور بے وقوف بھی کر دیتے ہیں تو کیا ہم انہیں عاقل کا درجہ دے دیں گے؟
۔
ہمارے چند عقل پسند علماء کی چاہت ہے کہ قرآن کو واپس پچھلی صدیوں کو منتقل کر دیا جائے، کیوں کہ اب سائنس اور قرآن کا کوئی مقابلہ نہیں، یہ دونوں کتابیں الگ الگ ہیں، آج کا عقلمند انسان جس کو ہم سائنسدان سمجھتے ہیں وہ تو کہہ رہا ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، مذہب ایک ذہنی بیماری اور ذہنی پسماندگی کا دوسرا نام ہے، اور پیغمبروں نے نہ تو فلکیات کی بات کی اور نہ طییعات کی اور نہ حیاتیات کی، اور نہ ہی ان لوگوں کو ان چیزوں کا ادراک تھا جو آج ایک عقلمند انسان کو ہے، مگر ان لوگوں نے خدا کا اتنا بڑا دعویٰ کیوں نہیں پڑھا،
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
کہ ہم نے ہر زندہ شی کو پانی سے پیدا کیا
۔
ایک نہیں اس طرح کے خدا کے بیسیوں دعوے قرآن میں درج ہیں، اور آخر علمِ فلکیات، طییعات اور حیاتیات کو جاننے والے عقلمند انسان پانی ہی کو کیوں دوسرے سیاروں پر تلاش کر رہے ہیں؟ جو بات سمجھنے کے لئے انسان کو ہزاروں سال لگے وہ بات قرآن نے محض 1400 سال پہلے بتا دی، اور یہ ہمارے چند مٹھی بھرعلمائے سوء، جنہوں نے آج تک سائنس کی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا، انہوں نے ڈارون کے نظریہ کو لادینی ٹھہرایا، حالانکہ ڈارون خود اہلِ کتاب میں سے تھا، جس نے خدا کا انکار نہیں کیا، ان لوگوں کو کیا پتا کہ قرآن اور سائنس ہم معنی ہیں اور جتنی ان دونوں میں مطابقت قائم ہو سکتی ہے وہ کسی اور کتاب میں نہیں، یہ لوگ یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سائنس غلطی نہیں کرتی، بلکہ سائنسدان غلطی کرتا ہیں اور اسی طرح قرآن غلطی نہیں کرتا بلکہ قرآن کو پڑھنے والا اور سمجھنے والا غلطی کرتا ہے،
۔
یہاں ایک سائنسدان کی بات نقل کرنا بہت ضروری ہے، جس نے سائنس کی قرآن سے مطابقت دیکھ کر اسلام قبول کیا، نہ تو وہ شخص کسی مبلغ کی تبلیغ سے متاثر ہوا اور نہ ہی اسلام کے کسی اور اخلاقی پہلو سے، اُس شخص کا کہنا ہے،
Quran contains no statements contradicting established scientific facts. Quran is in agreement with scientific facts, while the Bible is not. In Islam, science and religion have always been “twin sisters”
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
یا پھر اس آیت کی
ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآ ئً وَّ الْقَمَرَ نُوْ رً ا
یا پھر اس آیت کی
اَ لَمْ تَرَ وْا کَیْفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبْعَ سَمٰوٰ تٍ طِبَا قًا ہ وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْھِنَّ نُوْ رًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَ اجًا ہ
یا پھر اس آیت کی
لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُد ْرِکَ الْقَمَرَ وَ لَا الَّیْلُ سَا بِقُ النَّھَا رِط وَکُلُّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْ نَ ہ
یا پھر اس آیت کی
وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍٍّ لَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِ یْرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیْمِ
۔
کسی نے مستشرقین کی کتابوں سے اُٹھتے ہوئے اعتراضات کا اردو ترجمہ پڑھنا ہو تو اپنے چند عقل پسند علماء کو پڑھ لیا کرے، اس سے آپ کو انداز ہو جائے گا، کہ یہ لوگ مغربی افکار کو اپنانے میں کہاں تک جا سکتے ہیں۔۔۔ قرآن نہ سائنس سے جدا ہے نہ سائنس قرآن سے جدا ہے، ڈارون نے جن مسلمان سائنسدانوں سے نظریہٗ ارتقاء لیا ان مسلمان سائنسدانوں نے قرآن سے ہی استدلال لیا، وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ، حضرت ابنِ عباسؓ کا یہ قول ہے کہ القرآن یفسرہ الزمان" زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے، آئن سائن نے خدا کے معاملہ میں بڑھی منافقت سے کام لیا مگر ایک بار وہ بھی کہنے پر مجبور ہو گیا کہ
Science without religion is lame, religion without science is blind.
۔
آخر عقل اتنی اہم ہے تو پھر قرآن کیوں نازل ہوا؟ اور اگر قرآن ہی اتنا اہم ہے تو عقل کیوں دی گئی؟ اگر یہ دونوں ہی غیر اہم ہیں تو جزا اور سزا کس بات کی؟ کیا خدا نے قرآن میں یہ نہیں کہہ رہا، کہ یہ کتاب عقل والوں کے لئے ایک مہار ہے؟
كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
ایک کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی بڑی برکت والی تاکہ وہ اس کی آیتوں میں غور کریں اور تاکہ عقلمند نصحیت حاصل کریں۔
۔
چند اہلِ لغت علماء حضرات کی بیچارگی کا ہمیں خوب اندازہ ہے، ساری زندگی لغت سے سر نہیں نکالا اور حدیث کو بھی ترک کیا اور سائنس کی کتاب کو بھی کبھی ہاتھ میں نہیں لیا، اور قرآن کو بس اخلاقیات کی کتاب بنا دیا، اور عقل کو قرآن سے جدا کر دیا۔
اخلاقیات تو بائبل بھی سکھا رہی ہے اور تورات بھی، ایک سے بڑھ کر ایک اخلاق پر مبنی بات ہمیں ان متروک صحیفوں سے مل جاتی ہیں، پھرہم آخر قرآن ہی کیوں پڑھیں، اگر بات صرف اخلاقیات کی ہے؟ اور اگر بات عقلیات کی ہے، تو عقل کی بات افلاطون نے بھی، عقل کی بات سقراط نے بھی کی، عقل کی بات خود وہ عقل پسند علماء حضرات بھی شاد و نادر کر ہی دیتے ہیں، جیسے عقل کی بات بعض اوقات جھل اور بے وقوف بھی کر دیتے ہیں تو کیا ہم انہیں عاقل کا درجہ دے دیں گے؟
۔
ہمارے چند عقل پسند علماء کی چاہت ہے کہ قرآن کو واپس پچھلی صدیوں کو منتقل کر دیا جائے، کیوں کہ اب سائنس اور قرآن کا کوئی مقابلہ نہیں، یہ دونوں کتابیں الگ الگ ہیں، آج کا عقلمند انسان جس کو ہم سائنسدان سمجھتے ہیں وہ تو کہہ رہا ہے کہ خدا کا وجود نہیں ہے، مذہب ایک ذہنی بیماری اور ذہنی پسماندگی کا دوسرا نام ہے، اور پیغمبروں نے نہ تو فلکیات کی بات کی اور نہ طییعات کی اور نہ حیاتیات کی، اور نہ ہی ان لوگوں کو ان چیزوں کا ادراک تھا جو آج ایک عقلمند انسان کو ہے، مگر ان لوگوں نے خدا کا اتنا بڑا دعویٰ کیوں نہیں پڑھا،
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
کہ ہم نے ہر زندہ شی کو پانی سے پیدا کیا
۔
ایک نہیں اس طرح کے خدا کے بیسیوں دعوے قرآن میں درج ہیں، اور آخر علمِ فلکیات، طییعات اور حیاتیات کو جاننے والے عقلمند انسان پانی ہی کو کیوں دوسرے سیاروں پر تلاش کر رہے ہیں؟ جو بات سمجھنے کے لئے انسان کو ہزاروں سال لگے وہ بات قرآن نے محض 1400 سال پہلے بتا دی، اور یہ ہمارے چند مٹھی بھرعلمائے سوء، جنہوں نے آج تک سائنس کی کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا، انہوں نے ڈارون کے نظریہ کو لادینی ٹھہرایا، حالانکہ ڈارون خود اہلِ کتاب میں سے تھا، جس نے خدا کا انکار نہیں کیا، ان لوگوں کو کیا پتا کہ قرآن اور سائنس ہم معنی ہیں اور جتنی ان دونوں میں مطابقت قائم ہو سکتی ہے وہ کسی اور کتاب میں نہیں، یہ لوگ یہ بات بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ سائنس غلطی نہیں کرتی، بلکہ سائنسدان غلطی کرتا ہیں اور اسی طرح قرآن غلطی نہیں کرتا بلکہ قرآن کو پڑھنے والا اور سمجھنے والا غلطی کرتا ہے،
۔
یہاں ایک سائنسدان کی بات نقل کرنا بہت ضروری ہے، جس نے سائنس کی قرآن سے مطابقت دیکھ کر اسلام قبول کیا، نہ تو وہ شخص کسی مبلغ کی تبلیغ سے متاثر ہوا اور نہ ہی اسلام کے کسی اور اخلاقی پہلو سے، اُس شخص کا کہنا ہے،
Quran contains no statements contradicting established scientific facts. Quran is in agreement with scientific facts, while the Bible is not. In Islam, science and religion have always been “twin sisters”
Prof. Doc. Maurice Bucaille
Book: The Bible, The Qur'an and Science
Book: The Bible, The Qur'an and Science
ایک سائنسدان یہ کہہ رہا ہے، اور ہمارے علمائے سوء تو کچھ اور کہہ رہے ہیں، عقل شتر بے مہار نہیں، عقل کو بھی ہمیشہ ایک مہار کی ضرورت رہتی ہے، جیسا کہ آئن سٹائن نے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کہہ ہی دیا۔
Science without religion is lame, religion without science is blind.
Science without religion is lame, religion without science is blind.
Subscribe to:
Posts (Atom)